تحریر: محمد یونس

کسی بھی معاشرے میں صحافی صرف خبر دینے والا فرد نہیں ہوتا بلکہ وہ اجتماعی شعور، سماجی اعتماد اور عوامی احساسات کا امین سمجھا جاتا ہے۔ صحافت کی اصل طاقت نہ مائیکروفون میں ہوتی ہے، نہ کیمرے میں، نہ ہی سوشل میڈیا کے فالوورز میں، بلکہ اس کی سب سے بڑی طاقت “ساکھ” ہوتی ہے۔ یہی ساکھ ایک صحافی کو عوام کے درمیان معتبر بناتی ہے اور یہی ساکھ اس کے قلم کو وزن دیتی ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں صحافت آج ایک نازک دور سے گزر رہی ہے۔ خبر اور بیانیے کے درمیان فرق دھندلا رہا ہے، تجزیہ اور پروپیگنڈا ایک دوسرے میں مدغم ہو رہے ہیں، جبکہ صحافت کی اخلاقی حدود مسلسل کمزور پڑتی جا رہی ہیں۔ ایسے ماحول میں “پریس کلب” جیسے اداروں کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، کیونکہ یہ صرف عمارتیں یا تنظیمیں نہیں بلکہ صحافتی اقدار، پیشہ ورانہ وقار اور اجتماعی ذمہ داری کی علامت ہوتے ہیں۔

پریس کلب کی بنیادی روح ہمیشہ یہ رہی کہ وہ صحافیوں کے لیے ایک غیر جانبدار، محفوظ اور پیشہ ورانہ پلیٹ فارم فراہم کرے جہاں اختلافِ رائے کو دشمنی نہ سمجھا جائے، جہاں خبر کی سچائی ذاتی تعلقات یا سیاسی وابستگیوں سے بلند ہو، اور جہاں نوجوان صحافیوں کی تربیت صرف “خبری دوڑ” تک محدود نہ رہے بلکہ انہیں صحافتی اخلاقیات، انسانی وقار اور سماجی ذمہ داری کا شعور بھی دیا جائے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے موجودہ پریس کلب واقعی اس کردار کو نبھا رہے ہیں؟

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ کئی مقامات پر پریس کلب صحافتی اداروں سے زیادہ سیاسی دھڑوں، ذاتی گروپ بندیوں اور مفاداتی حلقوں میں تبدیل ہوتے جا رہے ہیں۔ بعض جگہوں پر صحافی کی صلاحیت سے زیادہ اس کی وابستگی اہم بن چکی ہے۔ کہیں اختلاف رکھنے والے صحافی کو خاموش کرایا جاتا ہے، کہیں نوجوان آوازوں کو جگہ نہیں دی جاتی، اور کہیں صحافت کے نام پر ذاتی تعلقات، مالی مفادات یا سیاسی قربتیں فیصلہ کن حیثیت اختیار کر لیتی ہیں۔

اس صورت حال نے صرف صحافیوں کو نقصان نہیں پہنچایا بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ جب صحافی خود تقسیم، تعصب یا ذاتی مفادات کا شکار دکھائی دے تو پھر عوام سچ اور جھوٹ میں فرق کیسے کریں گے؟ جب پریس کلب خود داخلی بحرانوں کا شکار ہوں تو وہ ریاست، طاقتور حلقوں یا سماجی ناانصافی کے خلاف مؤثر آواز کیسے بن سکیں گے؟

جدید دور کی صحافت اب صرف خبر رسانی تک محدود نہیں رہی۔ آج صحافی کو ڈیجیٹل غلط معلومات، مصنوعی ذہانت، ریاستی و غیر ریاستی بیانیوں، آن لائن ہراسانی، نفسیاتی دباؤ اور معاشی عدم تحفظ جیسے پیچیدہ چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایسے وقت میں صحافی کی پیشہ ورانہ ساکھ پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے۔ ایک جھوٹی خبر چند منٹ میں وائرل ہو سکتی ہے، مگر کھویا ہوا اعتماد برسوں میں بھی بحال نہیں ہوتا۔

اسی لیے آج صحافت کو صرف آزادیٔ اظہار کی نہیں بلکہ اخلاقی احتساب کی بھی ضرورت ہے۔ آزادی اگر ذمہ داری سے خالی ہو جائے تو وہ انتشار پیدا کرتی ہے، جبکہ ذمہ دار صحافت معاشرے میں شعور، مکالمہ اور توازن پیدا کرتی ہے۔

پریس کلبوں کو بھی اب محض تقریبات، بیانات اور رسمی اجلاسوں سے آگے بڑھنا ہوگا۔ انہیں صحافیوں کی ذہنی صحت، ڈیجیٹل تحفظ، تحقیقاتی صحافت، فیک نیوز کی پہچان، تنازعاتی رپورٹنگ، اور انسانی حقوق جیسے موضوعات پر سنجیدہ تربیتی مراکز بننا ہوگا۔ انہیں نوجوان صحافیوں کے لیے ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں خوف کے بجائے سیکھنے، سوال کرنے اور اصولی موقف اپنانے کی حوصلہ افزائی ہو۔

صحافت کا اصل بحران وسائل کا نہیں بلکہ اعتماد کا بحران ہے۔ جب صحافی اپنی ساکھ کھو دیتا ہے تو وہ صرف ایک فرد نہیں ہارتا بلکہ پورا پیشہ کمزور ہو جاتا ہے۔ اسی طرح جب پریس کلب اپنی غیر جانبداری اور اخلاقی وقار برقرار نہیں رکھتے تو وہ صحافیوں کے اجتماعی تشخص کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

یہ وقت الزام تراشی کا نہیں بلکہ خود احتسابی کا ہے۔ صحافی کو یہ سوال خود سے پوچھنا ہوگا کہ کیا وہ عوام کے حقِ معلومات کا محافظ ہے یا صرف کسی مخصوص بیانیے کا نمائندہ؟ کیا اس کی وفاداری سچ کے ساتھ ہے یا طاقت کے ساتھ؟ اور کیا پریس کلب واقعی صحافیوں کے ادارے ہیں یا محض اثر و رسوخ کے مراکز؟

ایک ذمہ دار صحافی کی پہچان اس کے تعلقات نہیں بلکہ اس کی دیانت، تحقیق، توازن اور انسانی حساسیت ہونی چاہیے۔ کیونکہ آخرکار صحافت صرف خبر نہیں، ایک اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔ اور یہی ذمہ داری صحافی کی ساکھ کو زندہ رکھتی ہے۔

اگر صحافت کو واقعی معاشرے کا ضمیر بننا ہے تو پھر صحافی، پریس کلب اور میڈیا اداروں کو دوبارہ ان بنیادی اصولوں کی طرف لوٹنا ہوگا جہاں سچائی مفاد سے بڑی، انسانیت سیاست سے بلند، اور پیشہ ورانہ دیانت ہر وابستگی پر مقدم سمجھی جاتی تھی۔

ورنہ ایک دن ایسا بھی آ سکتا ہے جب شور بہت ہوگا، خبریں بھی بہت ہوں گی، مگر اعتبار کہیں نہیں ہوگا۔

ٹائم لائن اردو ٹیم
ٹائم لائن اردو کے رپورٹرز، صحافی، اور مصنفین پر مشتمل ٹیم

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں