ضلع کرم پاڑہ چنار سے تعلق رکھنے والے حسنین کے گھر میں تب ماتم شروع ہوئی جب ان کو ایک رشتہ دار کے ذریعے معلوم ہوا کہ حسنین سعودی عرب کے بجائے لیبیا میں کشتی ڈوبنے کی وجہ سے مر چکا ہے اور اس کی جنازہ کو اب پاڑہ چنار لے کر آرہے ہیں۔ حسنین کے رشتہ دار جواد حسین نے بتایا کہ حسنین اپنے دوستوں کے ساتھ عمرہ ادائیگی کیلئے گیا تھا جہاں سے ایک ایجنٹ کو 35 لاکھ روپے دیکر غیر قانونی طریقے سے یورپ جانے کا فیصلہ کیا تھا لیکن بدقستمی سے یورپ نہ پہنچ کر اس کی اب صرف لاش ہی ان کے خاندان والوں کو حوالے کیا گیا۔

فروری 2025 میں لیبیا کے ساحل کے قریب ایک کشتی حادثے نے پاکستان کے دیگر علاقوں کے طرح ضلع کرم کے بھی درجنوں خاندانوں کو سوگوار کر دیا۔ بہتر مستقبل اور روزگار کی تلاش میں یورپ جانے والے نوجوان انسانی سمگلروں کے جھانسے میں آکر بحیرہ روم کے خطرناک سفر پر نکلے، مگر ان میں سے کئی اپنے خوابوں سمیت سمندر کی نذر ہوگئے۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق لیبیا کے ساحل کے قریب ڈوبنے والی کشتی میں 60 سے زائد پاکستانی سوار تھے۔ حادثے میں متعدد پاکستانی جاں بحق ہوئے جبکہ کئی لاپتہ قرار دیے گئے۔ وزارت خارجہ کی جاری کردہ فہرست میں ضلع کرم سے تعلق رکھنے والے 13 افراد بھی شامل تھے۔

ضلع کرم کے نوجوان کیوں جا رہے ہیں؟

یورپ کو غیرقانونی جانے والے لیبیا کشتی حادثے میں جاں بحق افراد کے جنازے

ضلع کرم کئی برسوں سے بدامنی، فرقہ وارانہ کشیدگی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں سڑکوں کی بندش، تجارتی سرگرمیوں میں کمی اور روزگار کے محدود مواقع نے نوجوانوں کو بیرون ملک جانے پر مجبور کیا ہے۔

لیبیا حادثے میں جاں بحق ہونے والے ایک نوجوان کے بھائی نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ضلع کرم میں پچھلے دس سالوں سے نوجوان بے روزگاری اور معاشی عدم تحفظ کے باعث گھر چھوڑ کر بیرونی ممالک جانے کا فیسلہ کرتے ہیں لیکن ان کے پاس اتنے وسائل نہیں ہوتے کہ قانونی طریقے سے بیرونی ممالک جاسکے اس لئے وہ غیرقانونی راستہ اختیار کرلیتے ہیں جس میں بہت سے نوجوان کامیاب بھی ہوچکے ہیں۔

اس سے پہلے سال 2013 میں بھی پاڑہ چنار کے تیس سے زیادہ خاندانوں کو اس طرح کا صدمہ برداشت کرنا پڑا تھا، اس وقت اس علاقے نوجوان یورپ کے بجائے آسٹریلیا جار رہے تھے جن کو بحرہند میں حادثہ پیش آیا تھا اور ایک ہی دن میں تیس سے زیادہ افراد جاں بحق ہوچکے تھے جس میں کچھ لوگ بچ گئے تھے جن سے بعد میں معلوم ہوا کہ ان کے ساتھ سمندر میں ہی ان سے غائب ہوگئے تھیں جن کی لاشوں کا ابھی تک کسی کو علم نہیں ہے۔

ضلع کرم سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن اسخاق حسین کے مطابق ضلع کرم میں غیر قانونی مہاجرت کا رجحان گزشتہ چند برسوں میں نمایاں طور پر بڑھا ہے۔ انسانی سمگلر نوجوانوں کو اٹلی، یونان اور دیگر یورپی ممالک میں روزگار اور مستقل رہائش کے خواب دکھاتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے خاندان لاکھوں روپے قرض لیتے یا جائیداد فروخت کرتے ہیں۔

"ڈنکی” کا کاروبار کیسے چلتا ہے؟

ایف آئی اے اور مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورک پاکستانی نوجوانوں کو وزٹ ویزوں یا دیگر ذرائع سے ایران، دبئی، مصر، آذربائیجان یا لیبیا پہنچاتے ہیں۔ بعد ازاں انہیں غیر محفوظ کشتیوں کے ذریعے اٹلی یا یونان منتقل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

لیبیا اس وقت یورپ جانے والے غیر قانونی تارکین وطن کے لیے اہم ٹرانزٹ پوائنٹ سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق انسانی سمگلر منافع کمانے کے لیے کشتیوں میں گنجائش سے زیادہ افراد سوار کرتے ہیں جس کے باعث حادثات کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

بحیرہ روم: دنیا کا خطرناک ترین مہاجرتی راستہ

بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) کی جانب سے جاری کی گئی 2024 کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان سے 2021 کے مقابلے میں 2023 میں غیر قانونی مائیگریشن میں 280 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ آئی او ایم کے مطابق 2023 میں مجموعی طور پر 8,728 افراد غیر قانونی طریقے سے یورپی ممالک گئے۔

سب سے زیادہ غیر قانونی طور پر ترک وطن کرنے والے ممالک میں پہلے نمبر پر شام، دوسرے پر افغانستان، تیسرے پر تیونس، چوتھے پر مصر اور پانچویں پر پاکستان کے شہری ہیں۔

ضلع کرم: سب سے زیادہ متاثر علاقوں میں شامل

فروری 2025 کے حادثے کے بعد پاکستان واپس لائی جانے والی لاشوں میں تیرہ افراد ضلع کرم سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی تھی۔ ان لاشوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے پاڑہ چنار سپورٹس کمپلیکس پہنچائے گئے جہاں پر جنازوں میں ہزاروں افراد شریک ہوئے جبکہ متاثرہ خاندان آج بھی قرضوں اور نفسیاتی صدمے کا سامنا کر رہے ہیں۔

سماجی کارکنوں کے مطابق کئی خاندانوں نے اپنے نوجوانوں کو بیرون ملک بھیجنے کے لیے 20 سے 40 لاکھ روپے تک قرض لیا تھا۔ نوجوانوں کی ہلاکت کے بعد یہ قرض خاندانوں پر مزید بوجھ بن گیا۔

انسانی سمگلروں کے خلاف کارروائی کیوں ناکافی؟

ضلع کرم میں نوجوانوں کیلئےروشن مستقبل نہ ہونا غیرقانونی مہاجرت پر مجبور کرتے ہیں

انسانی سمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف ایف آئی اے متعدد مقدمات درج کرنے اور انسانی سمگلروں کی گرفتاریوں کا دعویٰ کرتی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق متاثرہ خاندان اکثر ایجنٹوں کے خلاف شکایات درج کرانے سے گریز کرتے ہیں۔ بعض صورتوں میں خاندان ایجنٹوں کے خوف یا سماجی دباؤ کے باعث تعاون نہیں کرتے۔

ضلع کرم کے سماجی کارکن زاہد حسین کا کہنا ہے کہ انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورک مقامی ایجنٹوں، سفری سہولت کاروں اور بین الاقوامی رابطوں پر مشتمل ہوتے ہیں، جس کے باعث ان کے خلاف کارروائی پیچیدہ بن جاتی ہے۔

ماہرین کیا کہتے ہیں؟

انسان حقوق کیلئے کام کرنے والے افتاب عالم کا کہنا کہ انسانی سمگلنگ کو روکنا صرف ملوث افراد کو سزا دینے سے ختم نہیں ہوتی کیونکہ تنگدستی اور مجبوری کی حالت میں ہر کوئی مجرمانہ حرکت کرسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک قبائلی اضلاع میں روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہوتے، نوجوانوں کے لیے ہنر مندی پروگرام نہیں بڑھتے، قانونی اور محفوظ ہجرت کے راستے نہیں کھلتے اور انسانی سمگلروں کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں ہوتی تب تک نوجوان خطرناک راستوں کا انتخاب کرتے رہیں گے۔

ضلع کرم کے نوجوانوں کی کہانی صرف ایک کشتی حادثے کی داستان نہیں بلکہ بے روزگاری، عدم تحفظ، محدود مواقع اور انسانی سمگلنگ کے منظم نیٹ ورک کی عکاس ہے۔ یورپ پہنچنے کا خواب بہت سے نوجوانوں کو ایسے راستوں پر لے جا رہا ہے جہاں منزل سے پہلے موت انتظار کر رہی ہوتی ہے۔ لیبیا کے ساحل پر ڈوبنے والی کشتی میں جان گنوانے والے نوجوان اس تلخ حقیقت کی زندہ مثال ہیں کہ غیر قانونی مہاجرت اکثر بہتر مستقبل نہیں بلکہ ناقابلِ تلافی سانحہ بن جاتی ہے۔

ریحان محمد
ٹائم لائن اردو سے وابسطہ نوجوان صحافی ریحان محمد خیبرپختونخوا سے ملکی میڈیا کے لئے کام کرتا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں