خواجہ سرا لائبہ نایاب کا تعلق بلوچستان سے ہے تاہم وہ پچھلے بارہ سالوں سے پشاور میں زندگی گزار رہی ہے۔ وہ ایک ہی کمرے کے ایسے فلیٹ میں زندگی گزررہی ہے جس کی داخلی دوازے پر گولیوں کے نشانات واضح دیکھائی دیں رہے ہیں۔وہ ایک نوجوان کے جان لیواء حملے میں بال بال بچ گئی تاہم اُن سے موبائل زبردستی چھین لی گئی۔ یہ سب کچھ اُن کے نام پر سوشل میڈیا کے جعلی اکاؤنٹ کے سبب ہوا۔ اُنہوں نے بتایاکہ اُن کا واحد ذریعہ معاش ڈانس پارٹوں میں شرکت کرنا ہے جبکہ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر اپنے ڈانس کے وڈیوزشیئر کرکے گاہگ کے توجہ حاصل کرنا ہے۔ اُن کے بقول کسی نے میرے نام سے سوشل میڈیا کا جعلی اکاؤنٹ بنا کر لوگوں سے ملاقات کے بہانے پیسے کھائے تھے اور اس بنیاد پر ایک لڑکا میرے فلیٹ میں آکر مجھ پر مسلح حملہ کردیا اورمجھے تشدد کا نشانہ بنایا۔

” ایک دن میں اپنی فلیٹ میں تھی کہ کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا، جب دروازہ کھولا تو ایک نوجوان جن کے ہاتھ میں پستول تھا عصے میں کہنے لگا کہ آپ مجھے سے ہزاروں روپے کھاگئے اور اوپر سے فون بھی بند کردی ہے۔میں نے اُن کو بتایاکہ آپ میرا موبائل چیک کریں میرا کوئی موبائل بینک اکاؤنٹ نہیں ہے لیکن اُنہوں نے ایک نہیں سنی،کمرے میں گھس کر فائرنگ کی، توڑ پھوڑ کی، مجھ پر تشدد کرکے میرا موبائل لیکر فرار ہوا”۔

لائبہ نے واقعے کی رپورٹ قریب پشاور کے کوتوالی تھانے میں درج کردی۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار کرکے موبائل برآمد کردی۔ملزم کے خاندان کے جانب سے بات ختم کرنے کے لئے تھانے میں جرگہ لے آیا اور راضی نامہ ہونے کے بعد ملزم کو بغیر کسی قانونی چارہ جوائی کے رہا کردیا گیاتاہم اُنہوں نے صرف موبائل واپس کردیا۔

آرزو خان خیبر پختونخوا کے خواجہ سراء برادری کے صدر اور منزل فاونڈیشن کے سربراہ ہے۔ وہ پچھلے پندرہ سالوں سے صوبے بھر میں خواجہ سراؤں کے حقوق کے لئے کام کررہی ہے۔ اُنہوں نے کہاکہ لائبہ کے کیس میں پولیس نے جعلی اکاؤنٹ کے بندش کے لئے نیشنل سائبر کرائم انوسٹکیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے)جانے کا کہا تاہم اُن کے بقول کہ خواجہ سرا سائبر ہراسمنٹ کے حوالے سے پہلے بھی سابق ایف آئی اے سائبرکرائم ونگ اور موجود این سی سی آئی اے کے پاس کئی درخواست جمع کرچکے ہیں لیکن اُن پرکوئی کاروائی نہیں کی گئی اور نہ ادارے کے جانب سے کوئی معاونت فراہم کی گئی تو اس وجہ سے لائبہ کے کیس بھی نہیں لیکرگئے اور سوشل میڈیا کے کاونٹس ابھی فغال ہے۔

” مشکل میں مدد کے لئے قائم سرکاری اداروں میں عملے کے باقاعد ہ تربیت نہ ہونے کی وجہ سے خواجہ سراء ایک کے بعد دوسرے تشدد کے واقعہ کے خوف کے سبب تشدد پر خاموش ہوجاتے ہیں۔ تمام سرکاری اداروں میں خوا وہ طبی عملہ کیوں نہ ہو خواجہ سراء کو صرف جنسی درندے کے نظر سے دیکھتے ہیں اور یہ سوچتاہے کہ یہ انسان نہیں بلکہ جنسی تعلقات کے لئے بنامشین ہے۔ان تمام مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے بہت ہی سنجیدہ واقعات میں خواجہ سراء ظلم وزیادتی پر خاموش ہوجاتے ہیں "۔

خواجہ سراؤں کو آن لائن درپیش مسائل کے حوالے سے پشاور میں قائم نیشنل سائبر کرائم تحقیقاتی ادارہ(این سی سی آئی)کے دفتر میں رجسٹرار کے ساتھ ملاقات کی تواُنہوں نے موقف دینے کے بجائے اس مسئلے پر کام نہ کرنے کا مشورہ دیا تاہم اصرار کے بعد متعلقہ آفیسر کے پاس جانے کا کہا۔ اُن سے ملاقات کے دوران بتایا گیاکہ تمام سولات ایک درخواست کے ساتھ جمع کرکے جواب کا انتظار کریں۔ اس طرح ہی کرلیا گیا اور مسلسل دفتر کے چکر کاٹنے کے باجود بھی ادارے کے جانب سے کوئی موقف سامنے نہیں آیا۔

ڈیجیٹل راٹس فاونڈیش (ڈی آر ایف) کی رپورٹ مطابق 2024 کے مقابلے میں 2025میں ہراسمنٹ کے کیسز میں 8.5 فیصد اضافہ ریکاڈ کیاگیا ہے۔ 2024 میں 2,029شکایات موصول ہوئی تھیں، جو 2025 میں بڑھ کر 3,012تک پہنچ گئیں، جن میں 2,586 شکایات سائبر ہراسمنٹ سے متعلق تھیں۔ ادارے کے مطابق پچھلے ایک سال میں خواجہ سراء کے 24، خواتین 1709اور مردوں کے 1279شکایتیں ادارے کے ساتھ رجسٹرڈ ہوئے۔

اویس احمد انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہر اور آن ہرسمنٹ کے شکار افراد کو مفت قانونی معاونت فراہم کرتاہے۔ اُنہوں نے کہاکہ آن لائن ہراسمنٹ صرف نازیبا پیغامات یا سوشل میڈیا پر گالم گلوچ تک محدود نہیں، بلکہ اس میں ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والے صنفی تشدد، سائبر بلیک میلنگ، رضامندی کے بغیر نجی تصاویر یا ویڈیوز کی تشہیر یا اس کی دھمکی، جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنانا، شناخت کی چوری، آن لائن تعاقب سائبرٹاکنگ، مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ جعلی تصاویر اور ویڈیوز، صنفی بنیاد پر غلط معلومات اور کردار کشی کی مہمات، رازداری کی خلاف ورزیاں اور دیگر ایسے ڈیجیٹل حملے شامل ہیں جو متاثرہ افراد کی ذہنی صحت، سماجی ساکھ، معاشی تحفظ اور جسمانی سلامتی کو شدید متاثر کرتے ہیں۔ اُن کاکہنا تھاکہ یہ خطرات تیزی سے پیچیدہ، منظم اور ہدفی نوعیت اختیار کرتے جا رہے ہیں، جس کے باعث متاثرہ افراد کو قانونی، نفسیاتی اور تکنیکی معاونت کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔

ایڈوکیٹ مہوش ثناء صدیقی خواجہ سراؤں کو مفت قانونی معاونت فراہم کرتی ہے،اُن کے مطابق، خواجہ سرا ء اکثر خوف، شرمندگی، یا اعتماد کی کمی کی وجہ سے متعلقہ اداروں سے مدد نہیں لیتے، لیکن پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 اُنہیں مکمل قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اس قانون کے تحت سائبر جرائم کی سزا تین سے پانچ سال قید اور لاکھوں روپے جرمانہ ہو سکتی ہے۔ اُنہوں نے کہاکہ کسی بھی قریبی سائبر کرائم ونگ (NCCA) میں جا کر یا آن لائن شکایت درج کرسکتی ہے، جن کے لئے شناختی کارڈ کے کاپی، شواہد کے ثبوت لازمی درخوست کے ساتھ جمع کرنا ہوگا۔

غیر سرکاری تنظیم دہ ہوا لور صوبے بھر میں خواجہ سراؤں کے حقوق اور آگاہی کے لئے کام کررہاہے۔ تنظیم کے پروگرام ڈریکٹر شوانہ شاہ کاکہنا ہے کہ معاشرے میں خواجہ سراؤں کو دیگر مشکلات کے ساتھ سائبر یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے استعمال کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل بھی بڑھ رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہاکہ خواجہ سراء کے اپنے ہی اکاونٹ سے شیئر ہونے والے مواد اُن کے خلاف استعمال ہورہے جبکہ کچھ واقعات میں زبردستی خواجہ سراؤں کے نازبیا وڈیوز اور تصاویر بنا کر اُن کو بلیک میل کیا جاتاہے۔اُن کے بقول یہ سب کچھ پیسوں یا جنسی تعلقات قائم کرنے کے لئے کیاجاتاہے۔ اُنہوں نے کہاکہ خواجہ سراؤں کو نہ صرف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے استعمال اور بعد میں اس پید ا ہونے والے مسائل کے حل کے لئے قانونی چارہ جائی کے حوالے سے آگاہی کی ضرورت ہے۔

ایک خواجہ سرا نے نام نہ ظاہر کرنے کے شرط پر بتایاکہ کچھ مسلح افراد نے پشاور میں ایک ڈانس پارٹی سے واپسی کے دوران اُن کو گاڑی سے اُتروا کر اغوا کرلیا اور ایک کمرے میں بند کرکے اسلحہ کے زور پر نازیبا وڈویو بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کردی۔ اُنہوں نے کہا یہ افراد مجھے سے زبردستی جنسی تعلقات قائم کرنے لئے دباؤ ڈال رہے تھے اور میرے باربار انکار پر اُنہوں نے یہ اقدام کیا۔ اُن کے بقول واقعے کے بعد پولیس تھانے اور این سی سی آئی کے پشاور دفتر میں ایف آئی آر درج کرنے کے بعد لڑکے کے خاندان نے باربار درخواست پر راضی نامہ کرلیا۔اُنہوں نے کہاکہ ماضی میں بھی مختلف قسم کے تشدد کے واقعات کا سامنا کرنا پڑا لیکن متعلقہ اداروں کے جانب سے کوئی انصاف نہیں ملا اس وجہ سے میں نے مجبوری کے تحت اُن کے ساتھ راضی نامہ کرلیا۔

خیبر پختونخوا کے محکمہ سماجی بہبود کے مطابق صوبے بھر سے ادارے کے ساتھ پرانے فارم پر بار سو جبکہ نئے فارم پر جاری رجسٹریشن میں چار سو تک خواجہ سرا رجسٹرڈ ہوچکے ہیں۔ نادرا حکام کے مطابق صوبے بھر میں تقریبا سو خواجہ سراؤں کو یکس پرجنس کے ساتھ شناختی کارڈ جاری کیے ہیں۔ لیکن خواجہ سراء تنظیموں کا کہنا ہے کہ صوبے میں خواجہ سراؤں کی تعداد 50 ہزار سے بھی زیادہ ہیں۔ خواجہ سراؤں کو درپیش سائبر ہراسمنٹ اور اس کے ساتھ جوڑے دیگر مسائل کے حوالے سے این سی سی آئی اے خیبر زون کے ایک اعلی عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کے شرط پر بتایا کہ خواجہ سراوٗں کے ساتھ سائبر ہراسمنٹ کے کیسسز بہت کم ادارے کے پاس درج ہوتے ہیں اور جن کیسسز میں کاروائیاں کرکے ملوث ا فراد گرفتار کرلی جاتے ہیں تو فریقین کے درمیان جلدی راضی نامہ ہونے کے بعد اُن کو بغیر سزا کے عدالت سے رہائی مل جاتی ہے جس کے وجہ سے کیسز میں قانونی کاروائیاں بہت ہی کم عمل میں لائی جاتی ہے۔

خواجہ سراٗ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے بعض خواجہ سراؤں نے، شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، بتایا کہ ان کی برادری میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال عموماً ڈانس پارٹیوں اور دیگر تقریبات کی تشہیر، زیادہ سے زیادہ مداح (فینز) اور گاہک بنانے، نیز نئے لوگوں سے رابطے قائم کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق بعض ا فراد انہی پلیٹ فارمز کے ذریعے ایسے لوگوں سے بھی رابطے استوار کرتے ہیں جس کے بعد ازاں پیسوں کے بدلے جنسی تعلقات قائم ہوجاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا نے رابطے آسان ضرور بنا دیے ہیں، لیکن اس کے ساتھ آن لائن ہراسمنٹ، بلیک میلنگ، دھوکہ دہی، جعلی شناختوں اور جنسی استحصال کے خطرات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جن کا سب سے زیادہ سامنا خواجہ سرا ء برادری کے افراد کو کرنا پڑتا ہے۔

آرزو خان کے مطابق موجودہ وقت میں خواجہ سراؤں کے لئے انٹرنیٹ کے استعمال کی وجہ سے پیداو ہونے والے مسائل میں دن بدن اضافہ ہورہاہے۔اُن کے بقول پچھلے چند ہفتوں میں دس ایسے واقعات رونما ہوچکے ہیں کہ جس میں ڈیجیٹل پیلٹ فارمز کے استعمال سے نہ صرف خواجہ سراؤں کو تشد د کا نشانہ بنایا گیابلکہ اُن میں دو خواجہ سراؤں کو غیرت کے نام پر خاندان والوں نے اس وجہ سے قتل کردئیے کہ اُن کے ڈانس پارٹی کے وڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر ہونے کے بعد اُن کے خاندان تک پہنچ گئے تھے۔ اُنہوں نے کہاکہ اکثر لوگ پیسوں کے حصول کے لئے خواجہ سراؤں کے نام پر فیک آئی ڈی بنائی جاتی ہے اورجب خواجہ سراء کسی ڈانس پارٹی میں چلا جاتاہے تووہاں پر لوگ اُن کو بغیر تصدیق کے تشدد کا نشانہ بنا دیتی ہے۔

سال 2025کے دوران نیشنل نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آی اے) کو ملک بھر سے ایک لاکھ بیالیس ہزار تین سو کیسز کو ساءبر کراءم کے شکایات موصول ہو ان میں سے 26 ہزار 36 شکایات کو ابتدائی انکوائری میں تبدیل کیا گیا، جبکہ شواہد کی بنیاد پر 1 ہزار 955 مقدمات باقاعدہ طور پر درج کیے گئے۔ اسی عرصے کے دوران سائبر کرائم کے 31 مقدمات میں سزائیں سنائی گئیں، جبکہ 122 مقدمات میں ملزمان بری ہوئے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ موصول ہونے والی شکایات میں سے صرف وہی کیسز باقاعدہ مقدمات میں تبدیل کیے جاتے ہیں جن میں ابتدائی تحقیقات کے بعد کافی شواہد موجود ہوں۔

وزارتِ داخلہ کے سال 2024 کے جاری کردہ اعداد شمار کے مطابق این سی سی آئی اے کو ایک لاکھ 23ہزار شکایات موصول ہوئیں، جن میں 68ہزار 627 کی تصدیق کی گئی۔ وزارت کے مطابق ایک ہزار44 کیسز عدالت میں رجسٹر ہوئے،جن میں ایک ہزار 382 افراد گرفتار اور 24 افراد کو سزائیں ہوئیںتاہم مذکورہ اعدادو شمار میں خواجہ سرائ کے بارے میں معلومات شامل نہیں تھے۔

لائبہ نے بتایاکہ اُن کے چند دوستوں نے سائبر ہراسمنٹ کی وجہ سے صوبہ جبکہ چند ایک نے ملک چھوڑ کر بیرونی ملک منتقل ہوگئے۔اُنہوں نے کہاکہ آذان کے نام سے خواجہ سراء نے اپنے ٹک ٹاک اکاونٹ پرکئی ایسے ویڈیوز اپ لوڈ کردی کہ جس میں اُنہوں نے قران اُٹھا کرکہاکہ میرے نام پر فیک اکاونٹ والے لوگوں سے پیسے کھا رہے جبکہ اُن کا ان سے کوئی تعلق نہیں لیکن اس کے باوجود بھی وہ مجبور ہوکر بیرونی ملک منتقل ہوگئے۔

منزل فاونڈیشن کے مطابق سال 2010سے ابتک خواجہ سراؤں پر تشدد کے اٹھارسو واقعات رجسٹرڈ ہوچکے جبکہ 170خواجہ سراؤں کو قتل کیاجاچکا ہے۔تنظیم کے مطابق رواں سال کے سات مہینوں میں دس سے زیادہ خواجہ سراؤں کو قتل کیاگیا تاہم ابتک صرف ایک ملزم کو عدالت کے طرف سے سزا ہوئی تھی جن کو راضی نامے کے بعد رہائی ملی۔

خواجہ سراؤں نے بتایا کہ عموما کم عمر میں خواجہ سرا گھر اور اپنا علاقہ چھوڑ کرکسی دوسرے شہر میں گرو کے ڈیر ے پر جاتاہے اور ایک خاص رسم کے بعد اُن کا چیلا یا شاگرد بن جاتاہے۔ اس پوری عمل کے وڈیو سوشل میڈیا پر شیئر ہونے کے بعد اُن کے خاندان والے گرو کو ڈرا دھمکا کر بچے کو گھر واپس بھیجنے کے لئے دباؤ ڈالنا شروع کردیتاہے جو موجود ہ وقت میں ایک بڑا مسئلہ بن رہاہے۔کئی گروز نے بتایاکہ اُن کو اس قسم کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ایک طرف وڈیو بنانا ضروری ہوتا ہے تاکہ برادری میں لوگوں کوپتہ ہو کہ فلاں خواجہ سراء اُن کا چیلاہے اور اُن کے ساتھ کسی بندے کی مالی یادیگر مسائل کے صورت میں گرو کے ساتھ بات کرنا ہوگا۔

شوانہ شاہ کاکہنا ہے کہ قانون اور ادارے موجود ہے تاہم انصاف کے حصول کے لئے نہ صرف خواجہ سراؤں کو آگاہی کی ضرورت بلکہ متعلقہ اداروں کے بھی زمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان لوگوں کو دینے جانے والے خدمات کے بارے میں بتائے اور آٖفس کا ماحول اسطرح بنائے کہ وہاں پر خواجہ سراء بغیر خوف جا کراپنا مسئلہ پیش کرسکے۔اُنہوں نے کہا کہ جب تک اداروں کے کارگردگی پر خواجہ سراؤں کے اعتماد بحال نہیں ہوتا تب تک یہ لوگ مدد کے لئے کہی نہیں جائینگے۔

آرزو خان بھی اسی بات سے متفق ہے کہ پولیس یا سائبر کرائم ونگ میں ایسا ماحول بنایا گیا کہ وہاں پر انصاف کے لئے خواجہ سراء کاجاناممکن ہی نہیں۔ اُنہوں نے کہاکہ سائبر کرائم کے حوالے سے کئی شکایت درج کرائے گئے لیکن ادارے کے جانب فیک آئی ڈیز تک کوبند نہیں کرسکے جن کے وجہ سے مسئلہ پیدا ہوا تھا باقی کسی کے خلاف کاروائی تو دور کی بات۔اُنہوں نے کہا کہ سائبر کرائم ونگ میں خاتون یا خواجہ سراء کو تعینات کردیا جائے تاکہ برادری کے متاثرہ لو گ آسانی کے ساتھ اپنا مسئلہ پیش کرسکے اور عملے کے جانب سے مزید ہراسگی سے بچا جاسکے۔

پاکستان میں سائبر قوانین اور سزائیں کیا ہیں؟

پاکستان میں سائبر کرائم کی روک تھام کے لیے بنیادی قانون پیکا اایکٹ 2016 نافذ ہے، جس کے تحت انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، موبائل فون اور کمپیوٹر کے ذریعے کیے جانے والے مختلف جرائم کی تعریف اور ان کی سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ اس قانون کے مطابق غیر قانونی طور پر کسی کمپیوٹر یا ڈیٹا تک رسائی (ہیکنگ) پر 3 ماہ قید یا 50 ہزار روپے جرمانہ یا دونوں، ڈیٹا کی غیر قانونی نقل یا ترسیل پر 6 ماہ قید یا ایک لاکھ روپے جرمانہ، کمپیوٹر سسٹم یا ڈیٹا کو نقصان پہنچانے پر 2 سال قید یا 5 لاکھ روپے جرمانہ، حساس سرکاری یا قومی انفراسٹرکچر کے کمپیوٹر سسٹم میں غیر قانونی مداخلت پر 3 سے 7 سال قید اور 10 لاکھ سے ایک کروڑ روپے تک جرمانہ، سائبر دہشت گردی پر 14 سال تک قید اور 5 کروڑ روپے تک جرمانہ، الیکٹرانک فراڈ پر 2 سال قید اور ایک کروڑ روپے تک جرمانہ، کسی کی شناختی معلومات کے غیر قانونی استعمال پر 3 سال قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانہ، آن لائن ہتکِ عزت پر 3 سال قید یا 10 لاکھ روپے جرمانہ، خواتین یا بچوں کی نازیبا تصاویر یا ویڈیوز شیئر کرنے، بلیک میل کرنے یا ہراساں کرنے پر 5 سے 7 سال قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانہ، بچوں سے متعلق فحش مواد (Child Pornography) پر 7 سال قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانہ جبکہ سائبر اسٹاکنگ، اسپوفنگ، اسپیمنگ اور دیگر آن لائن جرائم پر بھی جرم کی نوعیت کے مطابق قید اور جرمانے کی سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔

اسلام گل
بانی و مدیر اعلٰی ٹائم لائن اردو، اسلام گل افریدی مختلف قومی و بین الاقوامی میڈیا اداروں کےساتھ کام کرنے والے سینئر صحافی ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں