سید محمد کی دس ماہ کی بچی خسرے کا شکار ہو کر حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں چند دن زیرِ علاج رہی۔ وہ رواں سال جنوری کے اوائل میں اپنے آبائی علاقے سے نقل مکانی کرنے کے بعد ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ کے علاقے شنکو میں رشتہ داروں کے ہاں قیام پذیر ہیں۔ اُنہوں نے بتایا کہ دو ہفتے پہلے بچی کے دانت نکلنے کے آثار ظاہر ہونا شروع ہوئے تو ساتھ بخار، زکام اور پیٹ خراب ہونے کی شکایت بھی پیدا ہوئی۔ اُن کے بقول، علاج کے لیے گاؤں میں ڈاکٹر کے پاس لے گئے اور کچھ ادویات دینے کے باوجود جب مسلسل تیز بخار کے ساتھ آنکھوں سے پانی آنا شروع ہوا تو دوسرے دن حیات آباد میڈیکل کمپلیکس لے گئے۔ وہاں اُن کی طبیعت کافی زیادہ خراب تھی اور کئی دن زیرِ علاج رہنے کے بعد طبیعت میں بہتری آنے پر گھر واپس آئے۔

سید محمد کی بچی کے علاج کے دوران محکمہ صحت کے عملے نے نہ صرف اُن کے گھر بلکہ اردگرد موجود بچوں کو بھی خسرے سے بچاؤ کی ویکسین لگائی تاکہ بیماری مزید نہ پھیل سکے۔ ہیڈکوارٹر ہسپتال باڑہ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ تحصیل باڑہ میں رواں سال 130 واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں دو بچوں کی اموات ہو چکی ہیں۔ ادارے کے مطابق، پچھلے سال کی نسبت ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ میں خسرے کے زیادہ واقعات سامنے آنے کی وجہ حال ہی میں وادی تیراہ سے بڑی تعداد میں نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کی آمد ہے۔ محکمہ صحت نے ضلع خیبر میں 102 کیسز کی تصدیق اور ان میں اموات کی خبر کو رد کر دیا ہے۔

ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر رفیق حیات کے مطابق، رواں ماہ 10 سے 15 اگست تک تحصیل باڑہ، جمرود اور لنڈی کوتل کے اُن علاقوں میں، جہاں تیراہ سے بے گھر خاندان رہائش پذیر ہیں، خسرے سمیت 12 دیگر بیماریوں کی روک تھام کے لیے خصوصی ویکسینیشن مہم جاری ہے۔ اُن کے بقول، ایک تو خسرے سے بچوں کے بچاؤ میں مدد ملے گی اور دوسرا یہ کہ جو بچے اپنے علاقے سے نقل مکانی کے دوران باقاعدہ ویکسینیشن سے رہ گئے ہیں، اُنہیں معمول کی بیماریوں سے بچاؤ کی ویکسین مل جائے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ جاری مہم میں 2,976 بچوں تک رسائی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جن کے لیے 190 ویکسینیٹرز تعینات کر دیے گئے ہیں۔ کوشش ہوگی کہ ان تک 100 فیصد رسائی حاصل کی جا سکے۔ اُنہوں نے کہا کہ دیگر اضلاع میں تیراہ کے بے گھر بچوں تک رسائی کے لیے متعلقہ حکام کے ساتھ کام جاری ہے۔

جاری مہم کے بارے میں باڑہ ہیڈکوارٹر ہسپتال سے حاصل کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، باڑہ میں تیراہ کے 1,746 بچوں کو ویکسین دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، تاہم اب تک 20 سے زیادہ ایسے خاندان ہیں جنہوں نے اپنے بچوں کو ویکسین دینے سے انکار کیا ہے۔ محکمہ صحت کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ بے گھر خاندانوں کے انکار کی وجہ اندراج اور حکومت کی جانب سے مالی معاونت کا عدم حصول ہے، تاہم ادارے کی جانب سے کوشش کی جا رہی ہے کہ ان لوگوں کو اس بات پر قائل کیا جا سکے کہ وہ اپنے بچوں کو بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ویکسین لگوائیں۔

ضلعی حکام کے مطابق، پہلے مرحلے میں 34 ہزار خاندانوں کا اندراج ہوا، جبکہ بعد میں سکیورٹی اور ضلعی حکام کی ہدایت پر مقامی عمائدین کی تصدیق کے بعد دوسرے مرحلے میں 12 ہزار خاندانوں کے دستاویزات ضلعی حکام کو موصول ہو چکے ہیں۔ حکام کے مطابق، پہلے مرحلے میں 19 ہزار خاندانوں کی تصدیق کا عمل مکمل کر لیا گیا اور گاڑی کے کرائے، دو لاکھ چالیس ہزار روپے اور دو ماہانہ معاونت کے سلسلے میں دو ماہ کے 70 ہزار روپے ادا کر دیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ دوسرے مرحلے میں چار ہزار خاندانوں کی فہرست جاری کر دی گئی ہے، جن کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔ بے گھر خاندانوں میں بچوں کے حوالے سے اعداد و شمار موجود نہیں۔

پچاس سالہ سعداللہ خان بھی وادی تیراہ سے بے گھر ہونے والے خاندانوں میں سے ایک ہیں۔ اُن کی گیارہ سالہ نواسی کو خسرے کی بیماری ہوئی، تاہم پہلے ہی اُنہیں خسرے سے بچاؤ کی ویکسین لگائی گئی تھی، جس کی وجہ سے 24 سے 30 گھنٹے تک شدید بخار اور منہ میں چھالے پڑنے کے بعد معمولی ادویات کے استعمال سے اُن کی صحت میں بہتری آنا شروع ہوئی۔ اُنہوں نے کہا کہ محکمہ صحت کی ٹیم آئی اور قریب 15 بچوں کو خسرے سے بچاؤ کی ویکسین لگائی گئی۔

تحریکِ متاثرینِ وادی تیراہ کے ترجمان صحبت خان آفریدی کا کہنا ہے کہ نقل مکانی سے پہلے تقریباً تین سال تک بدامنی اور پُرتشدد واقعات کے سبب وادی تیراہ میں باقاعدہ طور پر بچوں کو پولیو اور دیگر بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ویکسین مہیا نہیں کی گئی، جبکہ علاقے میں کوئی ہسپتال نہیں اور چھوٹے صحت کے مراکز بھی بدامنی کے سبب بند کر دیے گئے تھے۔ اُنہوں نے دعویٰ کیا کہ صرف ایک فیصد بچوں کو ویکسین لگائی گئی ہے اور نقل مکانی کے بعد بے گھر خاندان کم سہولیات، شدید گرمی اور کھانے پینے کا مناسب انتظام نہ ہونے کی وجہ سے شدید مسائل کا شکار ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ تیراہ کے بے گھر خاندان بڑی تعداد میں ضلع خیبر، پشاور اور نوشہرہ کے ایسے علاقوں میں رہائش پذیر ہیں جو آفریدی قبائل کی بڑی آبادی کے باعث جانے جاتے ہیں۔ اس وجہ سے محکمہ صحت سمیت دیگر اداروں کو چاہیے کہ بے گھر بچوں کی صحت سمیت دیگر سہولیات کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں۔

ویکسین سے انکاری تیراہ کے متاثرہ خاندانوں کے بارے میں صحبت خان آفریدی نے کہا کہ اس کی بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ ایک طرف حکومت نے لوگوں کو اندراج کے لیے پولیو ڈیٹا ہونا لازمی قرار دیا، جبکہ دوسری جانب ایک بڑی تعداد میں خاندانوں کا اندراج اس وجہ سے نہیں ہو سکا کہ اُن کا مذکورہ ریکارڈ دستیاب نہیں تھا۔ اس وجہ سے متاثرین کا یہی موقف ہے کہ ایک طرف مراعات کو پولیو کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے اور ہمیں نہیں دیا جاتا، جبکہ دوسری جانب ویکسین کے لیے ٹیمیں بھیج دی جاتی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم اپنے بچوں کو بیماریوں سے تحفظ چاہتے ہیں اور انکاری خاندانوں کی تعداد بہت کم ہے۔ اس کے باوجود اگر کہیں پر ایسا کوئی مسئلہ ہو تو تحریکِ متاثرین محکمہ صحت کے ساتھ ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔

رفیق حیات کا کہنا ہے کہ خسرہ اُن بچوں کو زیادہ متاثر کرتا ہے جنہیں نو ماہ کی عمر میں پہلی بار اور 15 ماہ میں دوسری بار خسرے سے بچاؤ کی ویکسین نہیں لگائی گئی ہو۔ اُنہوں نے کہا کہ متاثرہ بچے میں شدید بخار، زکام، آنکھوں کا سرخ ہونا اور پانی آنا، ساتھ ہی منہ میں چھالے پڑنا اس کی بنیادی علامات ہیں، جبکہ علاج کے مد میں عام ادویات سے اُن کا درجہ حرارت قابو کرنا ہوتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ایک متاثرہ بچے کو صحت یاب ہونے میں ایک سے 21 دن تک کا وقت لگ سکتا ہے۔ اُنہوں نے والدین پر زور دیا کہ بچوں کو بروقت مختلف بیماریوں سے بچاؤ کی ویکسین لگوائیں۔ اگر کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو جلد قریبی صحت کے مرکز میں متعلقہ عملے سے رجوع کرنا چاہیے۔

پاکستان میں خسرے کے کیسز میں حالیہ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق رواں سال جون تک پاکستان میں 20 ہزار سے زائد مشتبہ خسرہ کیسز رپورٹ ہو چکے تھے، جن میں 96 بچوں کی اموات واقع ہوئیں۔ ان اموات میں سندھ کے 53، خیبر پختونخوا کے 24، پنجاب کے 15 اور بلوچستان کے چار بچے شامل ہیں۔ عالمی سطح پر بھی خسرہ بنیادی طور پر کم عمر بچوں کے لیے خطرناک بیماری ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق سال 2023 میں پاکستان میں 17 ہزار 722 خسرے کے کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ 2024 میں یہ تعداد بڑھ کر 24 ہزار 709 تک پہنچ گئی۔ 2025 میں دستیاب سرویلنس اعداد و شمار کے مطابق 18 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق متاثرہ اکثریت غیر ویکسین شدہ یا نامکمل ویکسینیشن والے پانچ سال سے کم عمر بچوں کی تھی۔

محکمہ صحت خیبر پختونخوا کے مطابق ضلع خیبر میں خسرے سمیت دیگر امراض کے 43 ہزار 724 بچوں کو ویکسین لگائی گئی اور کل بچوں میں 81 فیصد تک رسائی حاصل کی گئی تھی۔ ادارے کے مطابق ضلع خیبر میں خسرے کے واقعات میں اضافے کے سبب خیبر اور پشاور کے کچھ علاقوں میں خسرے کی روک تھام کے لیے خصوصی مہم جاری ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق پشاور میں چھ لاکھ 50 ہزار بچے موجود ہیں، جن میں ویکسینیشن کے لیے محکمہ صحت کے ساتھ دو لاکھ 17 ہزار 637 بچے رجسٹرڈ ہیں۔ معلومات کے مطابق پشاور میں آخری مہم کے دوران 8,798 بچوں کو ویکسین نہیں لگائی گئی، جبکہ ایک لاکھ آٹھ ہزار بچوں کے ویکسین لگوانے کی مدت پوری ہونے کے باوجود اُنہیں ویکسین نہیں لگائی گئی۔

اسلام گل
بانی و مدیر اعلٰی ٹائم لائن اردو، اسلام گل افریدی مختلف قومی و بین الاقوامی میڈیا اداروں کےساتھ کام کرنے والے سینئر صحافی ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں