ضلع خیبر وادی تیراہ میں ایک ہی رات کو پوری خاندان کے 18 افراد اور دوسرے خاندان کے تین افراد جان سے گئے۔ حکومت نے اسے دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے دوران ہونے والا ’ضمنی نقصان قرار دیا تھا تاہم لواحقین اسے معصوم شہریوں کے قتلِ عام قرار دے رہے تھے۔

ستر سالہ خیال اکبر کی اپنے نو سالہ یتیم پوتے بیت اللہ سے آخری گفتگو ایک ایسے سفر کے بارے میں تھی جو کبھی نہ ہو سکا۔ پچھلے سال 21 ستمبر کی شام کم سن بیت اللہ نے اپنے دادا سے ضد کی کہ وہ بھی ان کے ساتھ شڈالے گاؤں سے تقریباً آٹھ کلومیٹر مغرب میں واقع کولاہ کے پرانے خاندانی گھر جائینگے۔ بیت اللہ کی والدہ پہلے ہی کولاہ میں موجود تھی۔بالآخر طے ہوا کہ بیت اللہ دو روز بعد اپنے دادا اور والدہ سے ملنے کولاہ جائی گی مگر وہ دن کبھی نہ آیا۔

خیال اکبر کولاہ روانہ ہو گئے چند گھنٹے بعد، نصف شب کے کچھ ہی دیر بعد، خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر وادی تیراہ میں واقع شڈالے کے آسمان پر جنگی طیاروں کی گھن گرج سنائی دی۔

عینی شاہدین کے مطابق دو زوردار دھماکے ہوئے۔ صبح ہوئی تو بیت اللہ اپنے ہی گھر کے ملبے تلے مردہ پڑا تھا۔ اس کے ساتھ خاندان کے کئی دوسرے افراد بھی جاں بحق ہو چکے تھے، جن میں اس کے چچا، پھوپھیاں اور کزن شامل تھے۔ مرنے والوں میں چند ہفتوں کا ایک نوزائیدہ بچہ بھی شامل تھا۔

واقعے کے ایک سال پورا ہونے کے بعد بھی تیراہ وادی پر ایک اور ممکنہ فوجی کارروائی کا خوف منڈلا رہا ہے۔ رواں سال جنوری میں پاکستانی فوج کی جانب سے نئی کارروائیوں کی اطلاعات کے بعد چالیس ہزار سے زیادہ خاندانوں نے دوسری بار نقل مکانی کرنے کے بعد ضلع خیبر کے میدانی علاقوں ، پشاور اور نوشہرہ میں مشکل زندگی گزار رہے ہیں ۔ باوجود اس کے  واپسی کی مدت دس اپریل کو پوری ہوچکی ہے تاہم نئی تاریخ دس اکتوبر مقرر کیں جانے کے باوجود بھی کئی خدشات برقرار ہیں ۔

شڈالے میں شہریوں کی ہلاکتوں نے پاکستان کے سرحدی اضلاع میں بڑھتے ہوئے تشدد کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں پر ایک وسیع بحث کو جنم دیا ہے۔ اس بحث کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ یہاں سوال اٹھانے والے کوئی بیرونی فریق نہیں بلکہ پاکستان کے اپنے شہری ہیں، جو اس ستمبر کی تاریک رات پیش آنے والے واقعے کے بارے میں سرکاری مؤقف کو چیلنج کر رہے ہیں۔

خوف سے بھری صبح اور تسلی کے لیے اٹھتے ہاتھ خیال اکبر طے شدہ منصوبے کے مطابق 21 ستمبر کی شام کولاہ روانہ ہو گئے تھے اور بیت اللہ گھر ہی میں رہ گیا تھا۔ وہ ایک رشتہ دار کے خاندانی تنازعے کو حل کرانے میں مدد کے لیے کولاہ گئے تھے۔

22 ستمبر کی صبح، جب وہ فجر کی نماز کے لیے اٹھے تو پوری وادی میں مساجد کے لاؤڈ اسپیکروں سے اعلانات گونجنے لگے۔

’’اعلان کیا جا رہا تھا کہ شڈالے میں گھروں پر طیاروں سے بمباری ہوگی ہے۔ لوگ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ سب لوگ فوری طور پر پہنچیں اور امدادی کارروائیوں میں مدد کریں۔‘‘

یہ بات اکبر نے واقعے کے چند ہفتے بعد ململ بتائی۔ ابتدا میں ستر سال کے عمر کو پہنچنے والے اکبر پوری طرح سمجھ نہیں پائے کہ اعلان کس قیامت خیز واقعے کی خبر دے رہا ہے۔ پھر کچھ رشتہ دار پک اَپ گاڑی میں وہاں پہنچے اور بلند آواز میں ان کا نام پکارنے لگے۔ ’’جلدی گاڑی میں بیٹھیں۔ آپ کے گھر پر بھی بمباری ہوئی ہے۔‘‘

جب وہ شڈالے پہنچے تو وہاں ان کے آٹھ کمروں اور صحنوں پر مشتمل گھر کی جگہ صرف ملبہ باقی تھا۔ جہاں کبھی ان کے پوتے پوتیاں کھیلتے، ہنستے اور سویا کرتے تھے، وہاں اب ان کی لاشیں ایک ایک کرکے الگ رکھی ہوءی تھیں۔ کھلے میدان کے ایک طرف مردوں اور لڑکوں کی لاشیں تھیں، جبکہ ایک کونے میں چارپائیوں پر خواتین اور بچیوں کی لاشیں چادروں سے ڈھانپ کر رکھی گئی تھیں۔اکبر نے ایک ہی رات میں اپنے خاندان کے 18 افراد کھو دیے تھے۔

جاں بحق ہونے والوں میں ان کا بیٹا محمد رئس، اس کی اہلیہ اور ان کے سات بچے شامل تھے۔ اکبر کا 33 سالہ بیٹا محمد سعید اس رات گھر پر موجود نہیں تھا۔ وہ پاؤں کے زخم کا علاج کرانے قریبی علاقے باڑہ گیا ہوا تھا اور یوں زندہ بچ گیا۔ مگر اس کی اہلیہ اور گھر میں موجود اس کے آٹھ بچے موت سے نہ بچ سکے۔ان مرنے والوں میں اکبر کا پوتا بیت اللہ بھی شامل تھا۔ اس کے والد، جو اکبر کے تیسرے بیٹے تھے، چھ برس قبل تیس سال کے عمر میں طبعی موت کا شکار ہوئے تھے۔

واقعے کے چند گھنٹے بعد جب پڑوسی ان کے تباہ شدہ گھر کے ملبے پر تعزیت کے لیے پہنچے تو لوگوں نے اکبر کو لاشیں دیکھنے سے منع کیا۔

’’لوگ مجھے لاشیں دیکھنے سے منع کر رہے تھے، لیکن میں نے اصرار کیا۔ میں انہیں دیکھنا چاہتا تھا، اپنے ذہنی سکون کے لئے ۔‘‘

حیال اکبر نے ایک ایک کرکے چادریں اٹھائیں اور اپنے بیٹے، بہوؤں اور پوتے پوتیوں کی باقیات دیکھیں۔ ان کے بقول لاشیں بری طرح مسخ ہو چکی تھیں۔ خاندان کی بھیڑیں اور بکریاں بھی ملبے تلے مردہ پڑی تھیں۔

جب وہ یہ سب دیکھ چکے توحیال اکبر نے وضو کے لیے پانی تلاش کیا اور اپنے مرحوم اہلِ خانہ کے لئے نفل اور دعا کی تیاری کی۔ ’’میں نے اپنی دعاؤں میں اللہ سے صبر مانگا اور کہا کہ اے اللہ، جو کچھ تو نے لیا، وہ تیرا ہی تھا، میں اس پر راضی ہوں۔‘‘

عینی شاہدین کے مطابق ساتھ والے گھر میں رہنے والے دو نوجوان بھی اس واقعے میں جاں بحق ہونے والوں میں شامل تھے۔مگر مہینے گزرنے کے باوجود اس واقعے سے صرف لاشیں اور ملبہ نہیں بچا؛ سوالات اور غصہ بھی آج تک زندہ ہیں۔

فضائی حملہ یا بارودی مواد کا دھماکہ

واقعے کے چند ہی گھنٹوں بعد مقامی ذرائع ابلاغ نے خبر دی کہ ’’طیاروں نے کئی گھروں کو نشانہ بنایا، جو مکمل طور پر تباہ ہو گئے، جبکہ شہری بھی جاں بحق ہوئے ۔‘‘ تاہم اس ابتدائی رپورٹ میں مزید تفصیلات سامنے نہیں لایا گیا۔ جلد ہی واقعے کی ایک مختلف، سرکاری وضاحت سامنے آنے لگی۔ پولیس کے مطابق یہ گھر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستہ مسلح جنگجو استعمال کر رہے تھے اور وہاں دیسی ساختہ دھماکا خیز آلات تیار کیے جا رہے تھے۔مقامی حکام کا کہنا تھا کہ نشانہ بنائے  گئے گھروں میں ٹی ٹی پی کے کم از کم دو کمانڈر موجود تھے اور وہ وہاں بم اور دیگر دھماکا خیز مواد تیار کر رہے تھے۔

واقعے کے بعد نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کرنے والے سکیورٹی حکام نے دعویٰ کیا کہ گھروں کے احاطے میں ذخیرہ کیا گیا دھماکا خیز مواد اچانک پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں تقریباً دو درجن افراد ہلاک ہوئے ۔ ان کے مطابق مرنے والوں میں ٹی ٹی پی سے وابستہ افراد کے ساتھ بعض عام شہری بھی شامل تھے۔

تاہم وفاقی حکومت اور پولیس حکام نے شڈالے میں ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں باضابطہ طور پر کوئی تفصیلی بیان جاری نہیں کیا۔ دوسری جانب مقامی آبادی اور خیبر پختونخوا کے منتخب نمایندوں نے اس سرکاری مؤقف کو یکسر مسترد کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ نصف شب کے بعد علاقے کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق شڈالے میں کم از کم دو گھر فضائی حملوں میں تباہ ہوئے، جن میں 20 سے زائد افراد مارے گئے، جبکہ مرنے والوں میں چھ خواتین اور 12 بچے بھی شامل تھے۔

محمد سعید نامی ایک مقامی رہائشی، جو اتفاق سے حیال اکبر کے بیٹے کا ہم نام بھی، دوست اور ہمسایہ ہے۔ وہ اپنے بھائی کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچنے والے ابتدائی افراد میں شامل تھے۔اُنہوں نے بتایا کہ رات تقریباً دو بجے طیاروں کی آواز سے ان کی آنکھ کھلی۔ اس کے فوراً بعد ایک ایسا زوردار دھماکا ہوا کہ ان کے پورے خاندان کی نیند سے اُٹھ گیا ۔اکبر کے گھر کی تباہی کو یاد کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں، ’’پورا گھر ملبے کا ڈھیر بن چکا تھا۔‘‘

موبائل فون کی روشنی میں محمد سعید، ان کے بھائی اور دیگر اہلِ علاقہ نے ملبہ ہٹانا اور دبے ہوئے لوگوں کو نکالنا شروع کیا۔محمد سعید نے بتایا کہ ملبہ کھودتے ہوئے سب سے پہلے بچوں کی لاشیں سامنے آئیں۔ تاہم ملبے کے بڑے بڑے ٹکڑے ہٹانا آسان نہیں تھا، اس لیے مزید لوگوں کو مدد کے لیے بلانا پڑا۔ مقامی مساجد کے لاؤڈ اسپیکروں سے اعلانات کیے گئے کہ لوگ فوری طور پر پہنچیں اور بیلچے، کدالیں اور دیگر ضروری سامان ساتھ لائے۔  محمد سعید کے مطابق ابتدا میں لوگ جائے وقوعہ پر آنے سے ہچکچا رہے تھے۔ انہیں خوف تھا کہ طیارے دوبارہ حملہ کر سکتے ہیں۔ ’’میں نے سب کو تسلی دی کہ حکومت نے جو کرنا تھا، کر دیا ہے۔ اب مزید کچھ نہیں ہوگا،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ملبے سے خواتین کی لاشیں نکالتے وقت ایک اور مشکل درپیش تھی۔ ان کی پردے کی حرمت برقرار رکھنا۔ چنانچہ مقامی خواتین کو بلایا گیا تاکہ لاشوں کو اسلامی طریقے کے مطابق غسل دیا جا سکے اور کفن پہنایا جا سکے۔

صبح آٹھ بجے تک تمام لاشیں ملبے سے نکال لی گئی تھیں۔ اس پوری امدادی کارروائی میں مقامی لوگوں کے پاس نہ بھاری مشینری تھی اور نہ ہی کوئی باقاعدہ امدادی سامان۔ اُنہوں نے اپنے ہاتھوں اور دستی اوزاروں کی مدد سے ملبہ ہٹایا اور اپنے ہی لوگوں کی لاشیں نکالیں۔

نئی شروعات کا خواب بھی مٹ گیا

خیال اکبر کا کہنا ہے کہ تدفین کے بعد پہلی  بار رات کو خیال اکبر صرف پانچ منٹ سو سکے۔ آنکھیں بند کرنے سے پہلے انہوں نے دعا کی، ’’اے اللہ! میرے خاندان کو مجھے خواب میں دکھا دے۔‘‘

اس مختصر سی نیند میں انہوں نے اپنے تمام مرحوم اہلِ خانہ کو سفید لباس پہنے ایک قبرستان میں کھڑے دیکھا۔ فضا میں ایک نرم اور دھیمی آواز گونج رہی تھی اور سب خوش دکھائی دے رہے تھے۔

اکبر دھیمی آواز میں کہتے ہیں، ’’یہ ایمان اور عقیدے کا معاملہ ہے۔ میں مطمئن ہو گیا، کیونکہ خواب میں سب کو خوش دیکھا۔‘‘

مگر حقیقت یہ ہے کہ شڈالے میں اب وہ گھر کھنڈر بن چکا ہے، جسے اکبر نے اپنے خاندان کے لیے ایک نئی شروعات کی علامت کے طور پر تعمیر کیا تھا۔ اُنہوں نے یہ گھر پہلی بار 2012 میں اپنی تمام جمع پونجی لگا کر بنایا تھا۔ بڑے خاندان کے لیے مناسب کمروں کے ساتھ کئی صحن تھے، جہاں اہلِ خانہ اکٹھے وقت گزار سکتے تھے، جبکہ مویشیوں کے لیے ایک باڑہ بھی بنایا گیا تھا۔لیکن کچھ عرصے سے پاکستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کا ایک نیا مرحلہ شروع ہوا اور سکیورٹی فورسز نے علاقے کو عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کے لیے خالی کرنے کا حکم دیا۔

اکبر کا خاندان بھی ہزاروں دوسرے خاندانوں کی طرح جو کچھ سمیٹ سکتا تھا، ساتھ لے کر گھر سے نکل گیا۔ وہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں چھ برس تک اندرونِ ملک بے گھر افراد کی زندگی گزارتے رہے۔

پہلی بار نقل مکانی کے بعد جب 2018 میں بالآخر انہیں واپس اپنے علاقے میں آنے کا موقع ملا تو ان کا گھر تباہ ہو چکا تھا اور علاقے میں جگہ جگہ سکیورٹی چوکیاں قائم تھیں۔ اکبر نے اپنی محدود مالی استطاعت کے مطابق اسی جگہ دوبارہ گھر تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس بار بھی آٹھ کمرے اور کئی صحن بنائے گئے ، مگر رقم کم پڑ جانے کے باعث وہ مہمانوں کے لیے الگ کمرہ، یعنی حجرہ، تعمیر نہ کر سکے۔

اکبر کے مطابق "گھر میں حجرہ نہ ہونا بھی اس بات کی دلیل تھا کہ یہ گھر کسی مسلح گروہ کی پناہ گاہ یا دھماکا خیز مواد تیار کرنے کی جگہ نہیں ہو سکتا تھا، جیسا کہ سکیورٹی حکام نے دعویٰ کیا”۔اکبر کہتے ہیں کہ 2018 میں خاندان کی واپسی کے بعد حکومت نے علاقے میں جائیدادوں کو پہنچنے والے نقصانات کا سروے بھی کیا تھا۔ انہیں چار لاکھ روپے معاوضہ ملنا تھا، مگر وہ رقم انہیں کبھی نہیں ملی۔سات برس بعد وہی نیا تعمیر کیا گیا گھر ایک بار پھر تباہ ہو گیا۔ مقامی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ اس بار بھی یہ تباہی ایک اور سرکاری کارروائی کے نتیجے میں ہوئی۔

اب اکبر کا شڈالے میں دوبارہ گھر بنانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، ان کا اکلوتا زندہ بچ جانے والا بیٹا محمد سعید بھی اب ایسا کوئی خاندان نہیں رکھتا جس کے لیے وہ گھر بنائیں یا جیسے اس گھر میں پناہ دے سکیں۔ اس کے بجائے اکبر پاکستان چھوڑنے، حتیٰ کہ افغانستان منتقل ہونے پر بھی غور کر رہے ہیں۔ شڈالے افغان سرحد سے تقریباً 200 کلومیٹر دور واقع ہے۔ وہ کہتے ہیں، اگر امن قائم نہیں ہوتا اور ایسے واقعات جاری رہتے ہیں تو ہمارے پاس صرف ایک ہی راستہ بچتا ہے۔

’’اگر آپ کی فوج دنیا کی بہترین فوج ہونے کا دعویٰ کرتی ہے اور بھارت کے ساتھ ایک دن میں جنگ ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، تو پھر آپ اپنے ہی لوگوں کا تحفظ کیوں یقینی نہیں بنا سکتے؟‘‘اکبر کا یہ سوال مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی مختصر مگر شدید فوجی جھڑپوں کے تناظر میں ہے، جس میں دونوں ملکوں نے اپنی اپنی فوجی کامیابیوں کے دعوے کیے تھے۔

تشدد کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ

شڈالے میں ہونے والے ہلاکت خیز دھماکوں کے بعد پاکستان کے اہم ترین انسانی حقوق کے ادارے، انسانی حقوق کمیشن پاکستان (HRCP)، نے بھی واقعے کی شدید مذمت کی اور حکام سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی فوری اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جاءیں۔کمیشن نے پچھلے سال 22 ستمبر کو جاری اپنے بیان میں کہا کہ ریاست آئین کے تحت تمام شہریوں کے حقِ زندگی کے تحفظ کی پابند ہے، مگر وہ بارہا اس ذمہ داری کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔

خیال اکبر کے لیے سرکاری وضاحتیں کسی تسلی کا باعث نہیں۔ ان کا سوال اب بھی وہی ہے، مرنے والوں میں تین ماہ کے بچے بھی شامل تھے۔ خواتین بھی تھیں۔ تو پھر یہ لوگ دہشت گرد کیسے ہو سکتے ہیں؟مگر تیراہ کا یہ سانحہ کسی ایک واقعے تک محدود نہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق گزشتہ برس پاکستان میں ایسے کئی واقعات سامنے آئے جن میں مبینہ طور پر کواڈ کاپٹرز اور ڈرون حملوں کے ذریعے شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی مارٹر گولہ باری اور فائرنگ کے نتیجے میں بھی بچوں سمیت متعدد افراد ہلاک ہوئے ۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جنوبی ایشیا کے لیے ڈپٹی ریجنل ڈائریکٹر ازابیل لاسی نے کہا کہ اگرچہ پاکستانی حکام اکثر ایسے حملوں کی ذمہ داری سے انکار کرتے رہے ہیں، تاہم ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ان واقعات کی فوری، آزادانہ، شفاف اور مؤثر تحقیقات کرے اور ذمہ داروں کو منصفانہ عدالتی کاروائی کے ذریعے قانون کے کٹہرے میں لائے۔

اسلام آباد میں قائم پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز (PIPS) کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں پاکستان میں عسکریت پسند تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا۔ ملک بھر میں 699 دہشت گرد حملے ریکارڈ کیے گئے، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 34 فیصد زیادہ تھے۔ ادارے کی رپورٹ کے مطابق اس نئی لہر کے نتیجے میں کم از کم 1,034 افراد ہلاک ہوئے، جو دہشت گردی سے متعلق ہلاکتوں میں 21 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔ مزید 1,366 افراد زخمی ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق یہ اعداد و شمار دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی انسانی قیمت کی نشاندہی کرتی ہے۔

سکیورٹی فورسز پر حملوں کی شدت اور تعداد میں اضافے کے ساتھ پاکستانی فوج نے ان مسلح گروہوں کے خلاف بھی کارروائیاں تیز کر دی ہیں جنہیں حکومت افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے والے سرحد پار جنگجو قرار دیتی ہے۔

اکتوبر 2025 میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک ہفتے تک جاری رہنے والی شدید جھڑپوں میں دونوں جانب درجنوں اہلکار اور شہری ہلاک ہوئے۔ بعد ازاں 19 اکتوبر کو دوحہ میں دونوں ممالک نے عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا اور ایک ہفتے بعد ترکیہ کے شہر استنبول میں مذاکرات کے ذریعے اس معاہدے کی تفصیلات طے کرنے کی کوشش کی تاہم پچھلے سال اکتوبر سے کابل اور اسلام آباد کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہے جس کی بنیادی وجہ پاکستان کے جانب سے مسلح گروہوں کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں اور پشت پناہی ہے تاہم افغان طالبان ان تمام الزمات کی تردید کررہاہے ۔

جنوری 2026 تک، یعنی شڈالے کے ملبے سے لاشیں نکالے جانے کے چار ماہ بعد، تیراہ وادی ایک نئے بحران کی لپیٹ میں آ چکی تھی۔

خیال اکبر اور ان کا بیٹا محمد سعید ابھی اپنے پیاروں کے غم سے باہر نہیں نکلے تھے کہ ان کے ہزاروں پڑوسی ایک بار پھر سخت سردی میں اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ مقامی حکام نے نئی فوجی کارروائی کے خدشات کے پیش نظر لوگوں کو علاقے سے نکلنے کی ہدایت کی۔

تاہم پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے نئی فوجی کاروائی کے امکان کو مسترد کر دیا۔27 جنوری کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی تیراہ وادی سے لوگوں کی ۔

خیال اکبر پیاروں کے قربانی سے آمن کے خواہاں

22 ستمبر کو اپنے پوتے پوتیوں کی تدفین کے موقع پر جمع لوگوں سے خطاب کرتے ہوءے انہوں نے کہا’’میرے ساتھ جو ہونا تھا، ہو چکا۔ اب باقی پشتونوں کو اپنے بارے میں سوچنا چاہیے۔‘‘

پھر انہوں نے ریاست کے سب سے طاقتور عہدوں پر بیٹھے لوگوں سے ایک ایسا سوال کیا جو شڈالے کے ملبے سے کہیں آگے تک جاتا ہے’’ملک کے وزیرِاعظم اور فوجی جرنیلوں کو عوام کے لیے والدین جیسا ہونا چاہیے۔ لیکن کیا والدین اپنے ہی بچوں کو اس طرح قتل کرتے ہیں؟‘‘

سیاسی ردِعمل

شڈالے گاؤں میں پیش آنے والے اس واقعے کی گونج خیبر پختونخوا کے سیاسی حلقوں تک بھی پہنچی۔واقعے کے چند روز بعد صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں خیبر سے منتخب رکنِ اسمبلی سہیل آفریدی، جو بعد ازاں اکتوبر 2025 میں خیبر پختونخوا کے وزیرِاعلیٰ بنے، نے ان ہلاکتوں پر سخت ردِعمل کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات ریاست کے خلاف عوام میں مزید غم و غصے اور بداعتمادی کو جنم دیں گے۔

صوبائی اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی نے بھی واقعے کی ’’شفاف اور فوری‘‘ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو نہ صرف ذمہ داروں کا تعین کرنا چاہیے بلکہ متاثرہ خاندانوں کو فوری امداد اور معاوضہ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی بحالی بھی یقینی بنانی چاہیے۔

اس کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں کی حمایت سے کئی احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے۔ سہیل آفریدی کے وزیرِاعلیٰ بننے سے قبل اس منصب پر فائز علی امین گنڈاپور نے بھی مقامی عمائدین کے ایک وفد سے ملاقات کی اور جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔ وزیرِاعلیٰ ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’’واقعے میں شہریوں کی شہادت افسوس ناک اور قابلِ مذمت ہے۔‘‘

گنڈاپور نے ہر جاں بحق فرد کے لواحقین کے لیے ایک کروڑ روپے، یعنی تقریباً 35 ہزار امریکی ڈالر، معاوضے کا اعلان کیا اور ایک گرینڈ جرگہ بلانے پر اتفاق کیا۔ اس جرگے میں منتخب نمائندوں، سیاسی رہنماؤں، مقامی عمائدین اور اعلیٰ فوجی حکام کو شامل کیا جانا تھا۔

تعزیت کے لئے گورنر فصل کریم کنڈی ،سابق وزیر اعلی آمین گنڈہ پور سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے مرکزی اور صوبائی قیادت متاثرہ خاندان کے ساتھ تعزیت کے لئے باڑہ آئے۔

اعلان کردہ معاوضے کی رقم بالآخر رواں برس جنوری میں خیال اکبر کو مل گیا۔

واقعے کے چند روز بعد فوجی حکام کے ساتھ ہونے والی ایک ملاقات میں صوبائی اور قبائلی رہنما ہاشم خان آفریدی نے بھی فوجی حکام سے براہِ راست سوال کیا کہ کیا وہ اس واقعے میں مارے جانے والے لوگوں کو ’’شہید‘‘ سمجھتے ہیں یا نہیں۔سہیل آفریدی سے کوئی تعلق نہ رکھنے والے ہاشم خان آفریدی کے مطابق ملاقات میں موجود سیکورٹی حکام نے اپنی غلطی تسلیم کی۔ ان کے مطابق اگرچہ حکام نے واقعے پر باضابطہ معذرت نہیں کی، تاہم قبائلی عمائدین کے ساتھ ملاقات میں انہوں نے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔

نوٹ: یہ کہانی چند مہینے پہلے تحریر کیاگیا تھا جبکہ متاثرہ خاندان کے سربراہ حیال اکبر کے گزشتہ روز انتقال کے بعد اس کو دوبارہ شائع کیا گیا

ریحان محمد
ٹائم لائن اردو سے وابسطہ نوجوان صحافی ریحان محمد خیبرپختونخوا سے ملکی میڈیا کے لئے کام کرتا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں