تیراہ سے بے گھر ہونے والے خاندانوں نے اپنے گھروں کو واپس جانے کے لیے دو ماہ کے بجائے دس ماہ انتظار کیا، جس کے بعد ضلعی حکام نے ایک بار پھر واپسی کی تاریخ 11 نومبر مقرر کی ہے۔ تاہم متاثرہ خاندان اس اعلان پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ میں تیراہ سے بے گھر ہونے والے خاندانوں کی ایک بڑی تعداد اس امید پر جمع ہوئی تھی کہ انہیں عمائدین کی نمائندہ 24 رکنی کمیٹی کی جانب سے واپسی کے اعلان کے حوالے سے تفصیلات فراہم کی جائیں گی، تاہم کمیٹی کا کوئی اہم رکن وہاں موجود نہیں تھا۔

تحریکِ متاثرین کے چیئرمین رحمت شاہ آفریدی کا کہنا ہے کہ بے گھر خاندان اس امید پر یہاں آئے تھے کہ 24 رکنی کمیٹی انہیں اپنے گھروں کو واپس بھیجنے کے حوالے سے مکمل لائحہ عمل سے آگاہ کرے گی، لیکن ایک رکن کے علاوہ کوئی بھی موجود نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر 24 رکنی کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ بدھ، یعنی 11 نومبر سے واپسی کا عمل شروع ہوگا، تاہم ابھی اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ بے گھر افراد اپنے علاقوں میں واپس جا سکیں گے۔

ان کے بقول، اس سے پہلے بھی واپسی کے حوالے سے کئی تاریخیں مقرر کی گئیں، تاہم ان پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ اب تک ہم نے تحمل سے کام لیا ہے اور اس بار بھی مقررہ تاریخ کا انتظار کر رہے ہیں، لیکن اگر اس مرتبہ بھی واپسی کا عمل شروع نہیں کیا گیا تو تحریکِ متاثرین آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی۔

24 رکنی کمیٹی کے فیصلے کے مطابق، آئندہ اتوار کو تاجروں جبکہ بدھ سے ہر قبیلے کے 100 افراد، یعنی روزانہ مجموعی طور پر 600 افراد کو واپس بھیجا جائے گا۔ تاہم بے گھر افراد اس اعلان سے بھی مطمئن نہیں ہیں۔ اس فیصلے کی تصدیق کے لیے ہم نے کمیٹی کے کئی ارکان سے رابطے کی کوشش کی، تاہم ان کی جانب سے کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا۔

انصاف تاجر ایسوسی ایشن، لرباغ وادی تیراہ کے صدر شیر افگن خان نے بتایا کہ واپسی کے حوالے سے حالیہ اعلان پر تاجر برادری کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اور نہ ہی انہیں اس بارے میں کوئی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دو دن قبل تاجر یونین کے ایک وفد نے ڈپٹی کمشنر ضلع خیبر سے واپسی کے حوالے سے ملاقات کی تھی، جس میں انہیں بتایا گیا کہ عام لوگوں کی واپسی شروع ہونے سے چند روز قبل تاجروں کو بھیجا جائے گا۔ تاہم، شروع دن سے متاثرہ تاجروں کو اعتماد میں لیے بغیر فیصلے کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کچھ عرصہ قبل اسسٹنٹ کمشنر باڑہ سے ملاقات کے دوران تاجروں کی فہرست حوالے کرنا تھی، تاہم انہوں نے یہ فہرست وصول کرنے سے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اسے 24 رکنی کمیٹی کے توسط سے جمع کرایا جائے۔ اس طرح ہمیں مجبوراً فہرست کمیٹی کے حوالے کرنا پڑی۔

ضلع خیبر کی دور افتادہ وادی تیراہ، جو پشاور سے تقریباً 130 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے، کی مقامی آبادی نے رواں سال جنوری میں بدامنی اور ممکنہ فوجی آپریشن کے خدشے کے پیشِ نظر نقل مکانی کی اور خیبر کے میدانی علاقوں، پشاور اور نوشہرہ میں رہائش اختیار کر لی۔ یہ عمل مقامی عمائدین کی 24 رکنی کمیٹی، ضلعی انتظامیہ اور سکیورٹی حکام کے درمیان 30 سے زائد نکات پر مشتمل ایک معاہدے کے تحت طے پایا تھا، تاہم یہ معاہدہ اب تک منظرِ عام پر نہیں لایا گیا۔

معاہدے کے تحت نقل مکانی، بے گھر خاندانوں کی رجسٹریشن، گاڑیوں کا کرایہ، یکمشت دو لاکھ 40 ہزار روپے مالی معاونت، دو ماہ تک ماہانہ 50 ہزار روپے کی ادائیگی اور دو ماہ بعد لوگوں کو اپنے گھروں میں واپس بھیجنا شامل تھا۔ تاہم مذکورہ نکات پر عمل درآمد کے حوالے سے متعدد شکایات سامنے آئیں، جو تاحال حل نہیں ہو سکیں۔

خوشحال خان کا تعلق برقمبر خیل قبیلے سے ہے اور انہوں نے بھی اس جرگے میں شرکت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ آج یہاں بے گھر افراد اس لیے جمع ہوئے تھے تاکہ گزشتہ روز ہونے والے فیصلے کے بارے میں معلومات حاصل کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ چھ قبیلوں کے روزانہ 600 افراد کو واپس بھیجنے اور اس عمل کو مزید ایک ہفتے کی تاخیر سے شروع کرنے سے ہمارے مسائل میں اضافہ ہوگا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئندہ چند دنوں میں شدید برف باری شروع ہونے والی ہے، جبکہ کھیتوں میں تیار فصل ضائع ہونے کا خدشہ بھی ہے۔ ان کے بقول، گزشتہ نو ماہ سے ہمارے مکانات خالی پڑے ہیں اور بارشوں کے باعث انہیں نقصان پہنچا ہے۔ اگر ایک مرتبہ برف باری شروع ہو گئی تو گھروں کی مرمت کے لیے مزید پانچ ماہ انتظار کرنا پڑے گا۔ لہٰذا ہم چاہتے ہیں کہ واپسی کا عمل جلد شروع کیا جائے اور روزانہ واپس جانے والے 600 افراد کی مقررہ تعداد میں اضافہ کیا جائے۔

تیراہ سے بے گھر ہونے والے ہر قبیلے نے ضلعی حکام کو واپس جانے والے افراد کی فہرستیں فراہم کر دی ہیں۔ دوسری جانب ضلعی حکام کا کہنا ہے کہ تیراہ سے بے گھر خاندانوں کی واپسی کے لیے ابھی تک کوئی منصوبہ تیار نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس حوالے سے انتظامات کیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق، واپسی کے حوالے سے وادیٔ تیراہ کے مقامی عمائدین کی 24 رکنی کمیٹی نے ایک تجویز پیش کی ہے، تاہم اس بارے میں ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

پچاس سالہ ظفر خان پیشے کے لحاظ سے تاجر ہیں اور گزشتہ دس ماہ سے نقل مکانی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ اس وقت کرائے کے مکان میں مقیم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال جنوری میں شدید سردی کے موسم میں نقل مکانی کرکے میدانی علاقوں میں بغیر کسی سہولت کے انتہائی مشکل وقت گزارا۔ ان کے بقول، انہوں نے باڑہ میں اس لیے کاروبار شروع نہیں کیا تھا کہ انہیں امید تھی کہ دو ماہ کے اندر ان کا علاقہ مسلح گروہوں سے پاک کر دیا جائے گا اور وہ واپس اپنے علاقے لوٹ جائیں گے، لیکن دس ماہ گزرنے کے باوجود صورتِ حال واضح نہیں ہو سکی۔

تحریکِ متاثرین تیراہ کے مطابق، بدامنی، پرتشدد واقعات اور نقل مکانی کے دوران 2023 سے جنوری 2026 تک 170 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ 200 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں، جن میں اکثریت بچوں اور خواتین کی ہے۔

تحریک کے ترجمان صحبت خان آفریدی نے بتایا کہ طویل عرصہ گزرنے کے باوجود حکومت جاں بحق افراد کے لواحقین اور زخمیوں کو مالی معاونت فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ان کے مطابق، جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے ایک کروڑ روپے جبکہ زخمیوں کے لیے 25 لاکھ روپے کا پیکج مختص کیا گیا ہے، تاہم ضلعی حکام کی جانب سے جاں بحق افراد کے لواحقین کو دس لاکھ روپے اور زخمیوں کو 30 سے 50 ہزار روپے تک مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔

سید محمد کا تعلق ملک دین خیل قبیلے سے ہے اور وہ پیشے کے لحاظ سے کاشتکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کے تحت رجسٹریشن کے عمل میں غفلت برتی گئی اور اب تک بے گھر افراد کی رجسٹریشن مکمل نہیں کی جا سکی۔ ان کے بقول، ماہانہ 50 ہزار روپے کے بجائے صرف 35 ہزار روپے دو ماہ تک ادا کیے گئے، جبکہ لوگوں کو اپنے گھروں سے باہر رہتے ہوئے دس ماہ گزر چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ علاقے میں منصوبے کے مطابق روزانہ 600 افراد کو واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، لیکن ان خواتین کا کیا ہوگا جو بیوہ ہیں اور جن کے کندھوں پر گھر کے اخراجات پورے کرنے کی ذمہ داری ہے؟ یہ خواتین اپنی زرعی زمینوں اور مویشیوں سے حاصل ہونے والی آمدن کے ذریعے گھر کا خرچ پورا کرتی ہیں۔

انہوں نے 24 رکنی کمیٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کمیٹی شروع دن سے بے گھر افراد کے مسائل کے حوالے سے سنجیدہ نہیں رہی، جس کی وجہ سے مسائل کم ہونے کے بجائے ان میں اضافہ ہوا ہے۔

11 نومبر کو واپسی کے حوالے سے ہم نے 24 رکنی کمیٹی کے ارکان سے بار بار رابطے کی کوشش کی، تاہم ان کی جانب سے کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق، اب تک 22 ہزار 710 خاندانوں کی تصدیق کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور انہیں گاڑیوں کے کرائے کے ساتھ یکمشت دو لاکھ 40 ہزار روپے مالی معاونت اور دو ماہ تک ماہانہ 35 ہزار روپے سم کے ذریعے ادا کیے جا چکے ہیں۔ تاہم ضلعی حکام کے پاس 40 ہزار سے زیادہ خاندانوں کی رجسٹریشن کے اعداد و شمار موجود ہیں، جن کی تصدیق کا عمل مختلف مسائل کے باعث گزشتہ دس ماہ میں مکمل نہیں ہو سکا۔

صوبے میں گورنر راج اور آٹھ قبائلی اضلاع سمیت 12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد منتخب عوامی نمائندوں کے بجائے اختیارات علاقائی نمائندگی و ترقیاتی کونسل کے سپرد کر دیے گئے ہیں۔

ضلع خیبر سے علاقائی نمائندگی و ترقیاتی کونسل کے رکن حاجی شیرین آفریدی نے بتایا کہ تیراہ سے نقل مکانی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل کے حل کی ذمہ داری 24 رکنی کمیٹی کے پاس ہے۔ تاہم، 22 اکتوبر کو گورنر ہاؤس میں فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر، وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ کونسل کے ارکان کی پہلی ملاقات میں وادیٔ تیراہ سے بے گھر افراد کی واپسی کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی تھی۔ اس موقع پر فیصلہ کیا گیا تھا کہ فصلوں کی کٹائی اور مکانات کی مرمت کے لیے ہر خاندان سے ایک ایک فرد کو ترجیحی بنیادوں پر واپس بھیجا جائے گا، تاہم مکمل واپسی کے حوالے سے کوئی واضح فیصلہ نہیں کیا گیا تھا۔

وادی تیراہ میں دوبارہ بدامنی کا آغاز

اگست 2021 میں افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان نے ان کی ثالثی میں تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ مذاکرات شروع کیے۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں عارضی جنگ بندی ہوئی اور بعض قیدیوں کو رہا کیا گیا، تاہم کوئی مستقل امن معاہدہ طے نہیں پا سکا۔

اسی دوران 2021 کے اواخر میں وادیٔ تیراہ میں مسلح افراد کی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہوئیں۔ ابتدا میں وہ سرحدی پہاڑی علاقوں میں موجود رہے، لیکن بعد میں مقامی آبادیوں میں آنا، حجروں اور مساجد میں قیام کرنا، مسلح گشت کرنا اور خوراک کے حصول کے لیے مقامی لوگوں پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔ اس صورتِ حال میں عام شہری جنگجوؤں اور سکیورٹی اداروں، دونوں کی جانب سے مشکلات کا سامنا کرنے لگے۔

تیراہ کے علاقے لنڈوار سے تعلق رکھنے والے سید محمد کو 25 مارچ 2024 کو اپنے چچا اور چچازاد بھائی سمیت اس الزام میں گرفتار کیا گیا کہ انہوں نے جنگجوؤں کو کھانا اور رہائش فراہم کی تھی۔ وہ تقریباً 40 روز بعد رہا ہوئے۔ ان کے مطابق، جنگجوؤں کو علاقے میں آنے سے روکنا مقامی لوگوں کے بس میں نہیں تھا، جبکہ ان کی سرگرمیوں کی اطلاع دینا بھی ان کے لیے خطرناک تھا۔

مقامی اطلاعات کے مطابق، ان مسلح گروہوں میں مقامی افراد کے علاوہ دوسرے قبائلی اضلاع اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے جنگجو بھی شامل تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان گروہوں میں مقامی نوجوانوں کی شمولیت بھی بڑھتی گئی۔ سکیورٹی فورسز اور مسلح گروہوں کے درمیان کارروائیوں کے نتیجے میں عام شہریوں کو بھاری جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا اور ایسے واقعات میں اضافہ ہونے لگا۔

24 رکنی کمیٹی کیا ہے؟

4 فروری 2025 کو وادیٔ تیراہ تاجر یونین کے صدر حاجی شیر محمد آفریدی اور ان کے چچازاد بھائی ابرار کو مسلح گروہوں کی جانب سے اغوا کیے جانے کے ایک ہفتے بعد برقمبر خیل کے علاقے بھوٹان شریف میں ان کی لاشیں ملنے سے مقامی لوگوں میں تشویش بڑھ گئی۔ شیر محمد کا شمار علاقے کی بااثر شخصیات میں ہوتا تھا اور انہیں سکیورٹی فورسز اور حکومت کے قریب سمجھا جاتا تھا۔ ان کی تدفین کے بعد علاقے کی تشویش ناک صورتِ حال پر مقامی عمائدین اور لوگوں کے بڑے جرگے منعقد ہوئے۔

سکیورٹی حکام اور مسلح گروہوں کی جانب سے درپیش مسائل کے حل کے لیے وادی میں آباد پشتون قبیلے آفریدی کی سات ذیلی شاخوں، جن میں برقمبر خیل، شلوبر قمبر خیل، ملک دین خیل، کمر خیل، آدم خیل، آکاخیل اور ذخہ خیل شامل ہیں، میں سے آکاخیل کے علاوہ باقی چھ قبیلوں نے 20 مارچ 2025 کو چار چار نمائندہ عمائدین پر مشتمل ایک بااختیار 24 رکنی کمیٹی تشکیل دی۔

24 رکنی کمیٹی عام لوگوں کے تین نکات پر بھی متفق ہوئی تھی، جن میں دوبارہ نقل مکانی نہ کرنا، مسلح گروہوں کے خلاف مسلح لشکر تشکیل نہ دینا اور سکیورٹی فورسز یا مسلح گروہوں کی جانب سے مقامی آبادی پر ظلم و زیادتی کسی صورت برداشت نہ کرنا شامل تھے۔ وادی میں مستقل امن کے قیام کے لیے سکیورٹی حکام اور مسلح گروہوں کے درمیان 80 سے زیادہ نشستیں ہو چکی ہیں۔

تیراہ سے بے گھر لوگوں کی واپسی کب ہوگی؟

گزشتہ سال نومبر سے ضلع خیبر کے دور افتادہ علاقے وادیٔ تیراہ میں بدامنی، پرتشدد واقعات، عام لوگوں کے جانی و مالی نقصانات اور مسلح گروہوں و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے باعث مقامی آبادی نے غیر اعلانیہ طور پر علاقے سے دوسری بار نقل مکانی شروع کر دی۔

مقامی چھ قبیلوں کے نمائندوں پر مشتمل 24 رکنی کمیٹی نے اعلیٰ سکیورٹی حکام اور سول انتظامیہ کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت رواں سال 5 جنوری سے تیراہ کے مرکز سے 30 کلومیٹر مشرق میں واقع علاقے پائندہ چینہ کے ایک سرکاری اسکول میں باقاعدہ رجسٹریشن کا عمل شروع کیا۔

24 رکنی کمیٹی کے ساتھ ہونے والا معاہدہ 30 سے زائد نکات پر مشتمل تھا، جو تاحال منظرِ عام پر نہیں لایا گیا۔ معاہدے میں واپسی کے حوالے سے ایک نکتہ یہ بھی تھا کہ 10 اپریل کو بے گھر افراد کی واپسی کا عمل شروع کیا جائے گا، تاہم نومبر شروع ہونے کے باوجود اب تک اس حوالے سے کوئی واضح پیش رفت دکھائی نہیں دے رہی۔

وادی تیراہ متاثرین کیلئے پہلے رواں سال کے 10 اپریل واپسی کے لئے مقرر کیا تھا یہ تاریخ گزرنے کے بعد پھر 5 اگست، پھر 10 اگست، پھر 10 اکتوبر، پھر 3 نومبر اور اب 11 نومبر کو واپسی کی تاریخیں مقرر کی گئی ہیں۔

تیراہ کی آبادی کتنی ہے؟

نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ رجسٹریشن کے وقت پیدا ہوا، جب حکومت کی جانب سے علاقے کی آبادی کے حوالے سے غلط معلومات اور ناقص منصوبہ بندی کے تحت شدید سردی میں انخلا کا عمل شروع کر دیا گیا۔

ضلع خیبر کے ضلعی حکام نے تیراہ سے نقل مکانی سے قبل مقامی حکومتوں کے نمائندوں کی مدد سے جمع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق وادیٔ تیراہ میں 19 ہزار 100 خاندانوں کی موجودگی بتائی تھی۔

تاہم صحبت خان آفریدی نے بتایا کہ انخلا سے پہلے ضلعی حکام اور 24 رکنی کمیٹی نے وادی میں رہائش پذیر خاندانوں کی تعداد کا غلط اندازہ لگایا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2013 میں تیراہ کے بے گھر خاندانوں کی واپسی کے دوران 76 ہزار خاندان رجسٹرڈ کیے گئے تھے۔

یکم مئی 2013 کو عالمی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، وادیٔ تیراہ میں مسلکی اختلافات کی بنیاد پر شروع ہونے والی لڑائی اور بعد میں دیگر علاقوں سے مسلح گروہوں کی آمد کے باعث بدامنی میں اضافہ ہوا۔ فوجی آپریشن کے نتیجے میں 23 مارچ 2013 سے وادی سے مقامی آبادی کی نقل مکانی شروع ہوئی۔

ادارے کے مطابق، مجموعی طور پر 11 ہزار 404 خاندان رجسٹرڈ ہوئے، جن میں 55 ہزار 194 افراد شامل تھے۔ امن قائم ہونے کے بعد دسمبر 2014 میں بے گھر افراد کی مرحلہ وار واپسی کا عمل شروع ہوا۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق، 2009 سے 2013 تک ضلع خیبر کے مختلف علاقوں سے مجموعی طور پر 94 ہزار بے گھر خاندانوں کو رجسٹرڈ کیا جا چکا ہے۔ چھٹی مردم شماری میں ضلع خیبر کی آبادی 11 لاکھ 46 ہزار 400 بتائی گئی، جبکہ وادیٔ تیراہ کی آبادی ایک لاکھ 400 افراد درج کی گئی۔ محکمہ صحت اور پولیو حکام سے حاصل کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، انخلا سے قبل وادی میں 24 ہزار 890 خاندان آباد تھے۔

تیراہ میں معیشت کا بڑا ذریعہ بھنگ کی کاشت

خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع خیبر، اورکزئی اور کرم کے بعض علاقوں میں بھنگ کی کاشت مقامی آبادی کے لیے آمدن کا ایک اہم ذریعہ رہی ہے۔ اس فصل سے چرس تیار کی جاتی ہے، جس کی ملک کے اندر اور بیرونِ ملک اسمگلنگ بھی ہوتی رہی ہے۔

تاہم بھنگ کے پودے میں نشہ آور اجزا کے علاوہ صنعتی اور طبی استعمال کی بھی وسیع گنجائش موجود ہے۔ اسی تناظر میں خیبرپختونخوا حکومت نے 2021 میں پشاور یونیورسٹی کے مختلف شعبوں کی مدد سے ان تینوں اضلاع میں بھنگ کی کاشت، پیداوار اور اس کے مثبت استعمال کے امکانات کا سروے کروایا تھا۔

سروے میں بھنگ سے حاصل ہونے والے اجزا کے ذریعے ادویات، سی بی ڈی آئل اور صنعتی مصنوعات تیار کرنے کے لیے چھ کارخانے قائم کرنے کی تجویز دی گئی تھی، جن سے تقریباً چھ ہزار افراد کو روزگار ملنے کی توقع ظاہر کی گئی تھی۔ تاہم اس منصوبے پر عمل درآمد میں تاخیر کے باعث مقامی کاشتکاروں کے لیے بھنگ کو ایک قانونی اور منافع بخش صنعتی فصل میں تبدیل کرنے کا امکان تاحال ایک اہم سوال ہے۔

خیبر، اورکزئی اور کرم میں بھنگ کی موجودہ کاشت کے حوالے سے کسی بھی سرکاری ادارے کے پاس مصدقہ اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔ تاہم پشاور یونیورسٹی کے شعبہ فارمیسی کے پروفیسر فضل ناصر نے دعویٰ کیا کہ جدید ٹیکنالوجی اور مقامی مارکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق تینوں اضلاع میں 200 مربع کلومیٹر، یعنی 49 ہزار ایکڑ زمین پر بھنگ کاشت کی جاتی ہے، جس سے سالانہ 50 لاکھ کلوگرام تک چرس حاصل ہوتی ہے۔

رقبے کے لحاظ سے اورکزئی پہلے، تیراہ دوسرے جبکہ کرم تیسرے نمبر پر ہے، تاہم سب سے بہترین فصل تیراہ میں پیدا ہوتی ہے۔ ان کے مطابق، آدھے ایکڑ زمین سے تیراہ میں پانچ کلو، اورکزئی میں ساڑھے تین کلو اور کرم میں دو سے ڈھائی کلو تک چرس حاصل کی جا سکتی ہے۔

اسلام گل
بانی و مدیر اعلٰی ٹائم لائن اردو، اسلام گل افریدی مختلف قومی و بین الاقوامی میڈیا اداروں کےساتھ کام کرنے والے سینئر صحافی ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں