محمد ایاز کا تعلق ضلع خیبر کے باڑہ میں آفریدی قبیلے کے ذیلی شاخ اکاخیل سے ہے۔ اُنہوں نے اپنے بیوی اور بچوں کے ساتھ دو مہینے پہلے اپنا آبائی علاقہ تیراہ میں شاڈلے کا علاقہ بدامنی کے سبب چھوڑ کر میدانی علاقے جندرو کلی آیا تاہم چندہفتے گزرنے کے بعد یہاں پر مسلح گروہوں کے سرگرمیاں شروع ہونے، ڈرون حملے اور بدامنی کے واقعات میں اضافے کے سبب حکومت کے اعلان کے وجہ سے دوسری بار نقل مکانی کرکے پشاور کے شیخان گاؤں منتقل ہوگئے۔

"میں یہاں پر اپنے قبیلے کے اندراج مرکز آیا ہوں۔ چونکہ میں خصوصی فرد ہوں تو چل پھرنے میں مجھے کافی مسلہ ہوتا ہے لیکن نقل مکانی نے مالی مسائل میں اس حد تک اضافہ کردیا ہے کہ گھر کا کرایہ اور کھانے پینے کے لئے پریشان ہے۔ تیراہ میں کاشتکاری اور مویشیوں کے خرید وفروخت سے تمام ضروریات باآسانی پوری ہوتی تھی۔

یہاں پر اندراج کے لئے آیا تھا تاکہ حکومت کے جانب سے مالی معاونت حاصل کی جاسکے تاہم یہاں پر بھی نام اور نمبر لیکر کہا گیا کہ آپ کو باقاعدہ اندراج کی اطلاع دی جائیگی "۔

پروینشیل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی(پی ڈی ایم اے) کے مطابق مقامی قبیلہ اکاخیل کے میدانی علاقوں جندرو کلی، کندوڑی کلی، عالم کلی، ساپری، سپینہ تگہ سمیت دیگر دیہاتو ں سے بے گھر خاندانوں کے اندراج کا عمل 12مئی باڑہ بازار کے قریب شروع ہوچکا ہے۔

حکام کے مطابق مقامی عمائدین کے ایک وفد نے وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے ساتھ ملاقات میں 170 خاندانوں کی فہرست حوالے گیا گیا جن کو پہلے مرحلے میں رجسٹرڈ کرلیا گیا ہے جبکہ اکاخیل قبیلے کے تیراہ سے بے گھر خاندانوں کے اندارج دوسرے مرحلے میں کیا جائیگا۔

معلومات کے مطابق اکاخیل قبیلے کے وادی تیراہ سے بے گھر نو سو خاندانوں کے اندارج ہوچکا ہے لیکن اُن کی تصدیق اور مالی معاونت کے حصول میں کافی زیادہ مسائل درپیش ہے۔ مقامی عمائدین کا دعویٰ ہے کہ چھ ہزار سے زیادہ خاندان جو وادی تیراہ سے بے گھر ہوچکے ہیں اندارج سے محروم ہیں۔

ضلعی حکام کے مطابق بدامنی کے سبب تیراہ میدان کے بعد پچھلے کئی ہفتوں سے آکاخیل قبیلے کے میدانی علاقوں سے پانچ سوسے زیادہ خاندانوں نے نقل مکانی کرکے دوسرے علاقوں کو منتقل ہوچکے ہیں۔

بے گھر خاندانوں کے تصدیق آکاخیل قومی کونسل اور مقامی عمائدین کے کمیٹی کررہے ہیں۔اکاخیل قومی کونسل کے ایگزیٹوکمیٹی کے ممبر جاوید خان نے بتایاکہ اکاخیل کے میدانی علاقوں سے تین سے آٹھ سو خاندان بے گھر ہوچکے ہیں جن کے اندراج کا عمل کل شروع کیاگیا ہے۔

اُنہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ ماضی میں تیراہ سے بے گھر خاندانوں کے اندراج میں کافی زیادہ مسائل سامنے آئے تھے تاہم اُن پر قابو پانے کے لئے قبیلے ذیلی شاخوں مداخیل، سلطان خیل، سنزل خیل، میر خیل، معروف خیل، مرگھٹ خیل اورشیر خیل کے دو دو عمائدین کے ساتھ قومی کونسل کے ممبران تصدیق کے عمل کے لیے یہاں پر موجود ہے تاکہ غیر متاثر فرد کی اندراج کا راستہ روکا جاسکے۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق12سے 20مئی تک 319 خاندانوں کے تصدیق کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے جن کو پہلے فرصت میں دو لاکھ چالیس ہزار،ماہانہ اخرجات کے مد میں پنتیس ہزار روپے موبائل سم کے ذریعے ادا کیا جائیگا۔

سال2021کے اوخر میں ضلع کے دوافتادہ وادی تیراہ میں بدامنی کی لہر شروع ہوئی اور رواں سال جنوری کے اوئل میں حکومت اور مقامی عمائدین کے معاہدے کے تحت وادی سے مقامی لوگوں کے دوسری بار نقل مکانی کا عمل شروع ہوا اور ابتک سینتس ہزار سے زیادہ خاندان جو رجسٹرڈ ہوچکے تھے کو گاڑی کے کرائے کے پیسے ادا کرد یئے گئے ہیں۔

ضلعی حکام اور چوبیس رکنی کمیٹی کے جانب سے سولہ ہزار سے زیادہ خاندانوں کے تصدیق کا عمل مکمل ہونے بعد پی ڈی ایم اے کے جانب سے پہلے فرصت میں دولاکھ چالیس ہزار جبکہ کچھ خاندانوں کو پہلے ماہانہ پنتیس ہزار روپے بھی وصول ہوچکے ہیں۔

باڑہ سیاسی اتحاد کے زیر اہتمام کل پشاور دھرنا اور بعد میں مذکرات میں حکومت نے چند دنوں میں دیگر مسائل کے ساتھ واپسی کے لائحہ عمل طے کرنے بھی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔اندراج اور مالی معاونت کے حصول میں بے گھر خاندانوں کے مسائل کے شکاتیں تاحال موجود ہے۔

سترہ سالہ مورچہ خان کو چند ہفتے پہلے اندراج کے دستاویزات اور موبائل سم کارڈ فراہم کیاگیا تاہم ابتک اُن کو مالی معاونت فراہم نہیں کیا گیا۔ اُنہوں نے کہاکہ وہ اکاخیل کے جندرو کلی سے بے گھر ہوچکا ہے اور پشاور میں ایک کرائے کے گھر میں زندگی گزرہے ہیں۔

اُنہوں نے کہاکہ یہاں پر معلومات کے حصول کے لئے آیاتھاکہ ہمیں کب تک حکومت مالی معاونت فراہم کرینگے تاہم یہاں پر رہنمائی کا کوئی انتظام موجود نہیں جبکہ مالی مسائل کے سبب انتہائی مشکل زندگی گزرنے پر مجبور ہے۔

"ہم پشاور کے علاقے متنی میں ایک چھوٹے سے کرائے کے گھر میں پچیس افراد رہائش پذیر ہے لیکن زندگی کی بنیادی سہولیات کا نام ونشان تک نہیں۔ نقل مکانی سے پہلے ہمارے ساتھ وعدہ کیاگیا تھاکہ آپ لوگوں کو فوری طورپر اندراج اور مالی معاونت فراہم کردی جائیگی لیکن ابتک کچھ نہیں کیا گیا "۔

قبیلہ آکاخیل کے تیراہ سے بے گھر نو سو خاندانوں کا اندراج ہوچکا ہے تاہم مقامی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ ابتک ہزاروں خاندانوں کا اندراج تک نہیں ہوسکا۔ حکومت کا موقف ہے کہ میدانی علاقوں سے بے گھر لوگوں کے اندراج مکمل ہونے کے بعد دوسرے مرحلے میں تیراہ سے آکاخیل قبیلے کے لوگوں کے اندراج کا عمل شروع کیا جائیگا۔

12مئی کو باڑہ سیاسی اتحاد کے جانب سے پشاو ر رنگ روڈ پراحتجاجی دھرنا دیاگیا، پولیس کے جانب سے مظاہرین پر آنسو گیس کی شلینگ کی گئی اور صوبائی اسمبلی جانے والے راستے بند کردئیے گئے۔ کئی گھنٹوں کے احتجاج کے بعد باڑہ سیاسی اتحاد کے رہنماؤں، کمشنر پشاور، ڈپٹی کمشنر خیبر، اسٹنٹ کمشنر باڑہ اور ڈپٹی کمشنر کے درمیان طویل مذکرات ہوئے۔

سیاسی اتحاد کے صدر نے دھرنے میں شریک شرکاء کو کامیاب مذکرات کے نوید سنائی اور موقف اپنایاکہ چودہ مطالبات میں صرف تین پر جمعے کے دن گرینڈ جرگہ طلب کرنے کا فیصلہ کیاگیا جبکہ باقی تمام پر عمل درآمد کے لئے احکامات جاری کردئیے گئے۔

باڑہ سیاسی اتحاد کے جانب سے تیراہ سے بے گھر لوگوں کے واپسی، وادی میں زمینوں کے کاشت کی فوری طورپر اجازت، تیراہ سے بے گھر لوگوں کے اندراج کے فہرست عام کرنا، چوبیس رکنی کمیٹی کے تصدیق شدہ خاندانوں کو فوری طور پر مالی معاونت کی فراہمی، معاہدے کے تحت تیراہ متاثرین کے 35نکات پر عمل درآمد یقینی بنانا، جزوی یا مکمل تباہ شدہ مکانات کے معاوضوں کی ادئیگی، متاثرین کے مالی معاونت میں مبینہ کرپشن کے تحقیقات، تیراہ میں اٹھارہ سو سرکاری نوکریوں پر مقامی لوگوں کو بھرتی کرنا، سرکاری استعمال میں لائے گئے زمینوں کے معاوضوں کی ادائیگی، باڑہ اور تیراہ میں مستقل امن کے قیام کے مطالبات شامل تھے۔

دھرنے کو تحریک متاثرین کی بھی حمایت حاصل تھی جبکہ تحریک جانب سے باڑہ پریس کلب کے سامنے پچھلے ایک سو دس دنوں سے احتجاجی کیمپ قائم کیاگیا ہے۔

تحریک ترجمان صحبت خان آفریدی نے کہاکہ کل دھرنے میں تیراہ متاثرین کچھ مطالبات شامل نہیں تھے البتہ جو اہم مسائل تھے اُن پر مذکرات میں بات چیت ہوئی جن میں بے گھر خاندانو ں کے اندراج، مالی معاونت اور فوری طورپر واپسی کا عمل شامل ہیں۔ اُنہوں نے کہاکہ جمعے کے دن ہونے والے مذکرات سے یہی اُمید ہے کہ مذکورہ بنیادی مطالبات کے حل کے حوالے سے مثبت پیش رفت ہونگے۔

باڑہ سیاسی اتحاد اور حکام کے درمیان ملاقات کے دوران تیراہ کے نمائندہ چوبیس رکنی کمیٹی کے جانب سے بعض ح خدشا ت کے پیش نظر مطالبات کے حل میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکا اور عید کے بعد مذکرات کا دوسرا نشست ہوگا۔

معاہد کے تحت پچھلے ماہ اپریل کے اوائل میں سے بے گھر لوگوں کے واپسی کے مدت پوری ہوچکی ہے تاہم ابتک مقامی لوگوں کے نمائندہ چوبیس رکنی کمیٹی اور حکومت کے جانب سے کوئی لائحہ عمل نظر نہیں آتا جبکہ دوسرے جانب متاثرین اندراج، مالی معاونت اور دوسرے علاقوں میں کم سہولیات کے ساتھ زندگی گزرنے کے شکایات کررہے ہیں۔

اسلام گل
بانی و مدیر اعلٰی ٹائم لائن اردو، اسلام گل افریدی مختلف قومی و بین الاقوامی میڈیا اداروں کےساتھ کام کرنے والے سینئر صحافی ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں