اضعر آفریدی

ڈیجیٹل دور نے دنیا بھر میں اطلاعات کے نظام کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ آج خبر صرف اخبار کے صفحات یا ٹیلی وژن کی اسکرین تک محدود نہیں رہی بلکہ سوشل میڈیا نے ہر فرد کو اطلاعات کے ایک وسیع سمندر سے جوڑ دیا ہے۔ خصوصاً فیس بک، ایکس، یوٹیوب اور دیگر پلیٹ فارمز نے خبر رسانی کے انداز، رفتار اور اثرات کو غیر معمولی طور پر بدل دیا ہے۔

اب ایک واقعہ چند لمحوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ جاتا ہے، عوام فوری ردِعمل دیتے ہیں اور رائے عامہ لمحوں میں تشکیل پاتی ہے۔ بلاشبہ یہ ایک مثبت پیش رفت ہے، مگر اس تیز رفتار دنیا نے صحافت کے لیے کئی نئے چیلنجز بھی پیدا کیے ہیں۔

ان چیلنجز میں سب سے خطرناک رجحان “مقبولیت کی دوڑ” ہے، جہاں خبر کی سچائی، تحقیق اور معیار کو اکثر ریچ، ویوز اور فالوورز کی خاطر پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے سوشل میڈیا کے الگورتھمز نے بھی سنجیدہ اور متوازن مواد کے بجائے سنسنی، جذباتیت اور تنازع پر مبنی مواد کو زیادہ نمایاں کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات صحافی غیر شعوری طور پر ایسے مواد کی طرف مائل ہو جاتے ہیں جو وقتی طور پر تو مقبولیت حاصل کر لیتا ہے، مگر طویل مدت میں ان کی پیشہ ورانہ ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ موجودہ دور میں صحافت صرف خبر دینے کا عمل نہیں رہا بلکہ “توجہ حاصل کرنے کی جنگ” بنتا جا رہا ہے۔ اس جنگ میں بہت سے لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ صحافی کا اصل سرمایہ اُس کی ساکھ، غیرجانبداری اور عوامی اعتماد ہوتا ہے۔ اگر ایک صحافی کی بات پر لوگ یقین کرنا چھوڑ دیں تو لاکھوں فالوورز اور ہزاروں شیئرز بھی اس کی حیثیت کو بحال نہیں کر سکتے۔ ساکھ وہ اثاثہ ہے جو برسوں کی محنت، دیانت داری اور ذمہ دارانہ رویے سے حاصل ہوتا ہے، مگر ایک غلط روش اسے چند لمحوں میں مجروح کر سکتی ہے۔

صحافت کی بنیاد تحقیق، تصدیق اور ذمہ داری پر قائم ہے۔ ایک ذمہ دار صحافی خبر کو محض “وائرل” کرنے کے لیے نہیں بلکہ عوام تک درست معلومات پہنچانے کے لیے کام کرتا ہے۔ وہ ہر خبر کی تصدیق کرتا ہے، مختلف زاویوں کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے اور عوامی مفاد کو ہمیشہ ترجیح دیتا ہے۔ یہی اصول صحافت کو پروپیگنڈا، افواہ سازی اور سنسنی خیزی سے الگ کرتے ہیں۔

اس تناظر میں خود احتسابی کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ ایک صحافی اگر اپنی غلطیوں کا اعتراف کر لے اور تنقید کو مثبت انداز میں قبول کرے تو یہی اس کی پیشہ ورانہ بلوغت کی علامت ہے۔ درحقیقت باشعور قارئین اور سنجیدہ ناقدین کسی بھی صحافی کے لیے نعمت ہوتے ہیں، کیونکہ وہ محض تعریف کے بجائے اصلاح کا راستہ دکھاتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں جہاں ہر شخص اپنی رائے کا اظہار کر سکتا ہے، وہاں صحافی کے لیے ضروری ہے کہ وہ عوامی تنقید کو دشمنی کے بجائے ایک احتسابی عمل سمجھے۔

صحافت کا ایک بنیادی ستون غیرجانبداری بھی ہے۔ ایک حقیقی صحافی کسی جماعت، گروہ، شخصیت یا مفاد کے تابع نہیں ہوتا بلکہ اس کی وفاداری صرف سچائی اور عوام کے ساتھ ہوتی ہے۔ وہ ذاتی پسند و ناپسند سے بالاتر ہو کر حقائق پیش کرتا ہے اور ہر فریق کا مؤقف مہذب اور متوازن انداز میں سامنے لانے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر صحافت تعصب کا شکار ہو جائے تو وہ عوامی اعتماد کھو بیٹھتی ہے، اور جب اعتماد ختم ہو جائے تو صحافت اپنی اصل روح بھی کھو دیتی ہے۔

اسی طرح تنقید کا انداز بھی صحافتی اخلاقیات کا حصہ ہے۔ اختلافِ رائے ایک مہذب معاشرے کی خوبصورتی ہے، مگر اس اختلاف میں شائستگی، احترام اور تہذیب کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ ایسی زبان جو نفرت، تضحیک یا کردار کشی کو فروغ دے، نہ صرف صحافت کے وقار کے خلاف ہے بلکہ معاشرے میں انتشار اور تقسیم کو بھی جنم دیتی ہے۔ ایک مہذب صحافی کی پہچان یہی ہے کہ وہ سخت ترین تنقید بھی مہذب الفاظ میں کرتا ہے اور اصلاح کو اپنی تحریر کا مقصد بناتا ہے، نہ کہ تذلیل کو۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ صحافی سوشل میڈیا کو صرف مقبولیت کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کے بجائے اسے ذمہ دار صحافت کے فروغ کا ذریعہ بنائیں۔ ریچ اور فالوورز وقتی چیزیں ہیں، مگر عوام کا اعتماد ایک دائمی سرمایہ ہے۔ اگر صحافت اپنے اصولوں پر قائم رہے، تحقیق اور دیانت داری کو مقدم رکھے، اور غیرجانبداری و شائستگی کو اپنا شعار بنائے تو سوشل میڈیا بھی معاشرے میں مثبت تبدیلی کا ایک طاقتور ذریعہ بن سکتا ہے۔

صحافت دراصل ایک مقدس امانت ہے۔ یہ قلم کی وہ ذمہ داری ہے جس کا مقصد عوام کو سچائی سے آگاہ کرنا، ظلم کے خلاف آواز اٹھانا اور معاشرے میں شعور پیدا کرنا ہے۔ یہی وہ اصول ہیں جو ایک صحافی کو محض “کانٹینٹ کریئیٹر” سے ممتاز کرتے ہیں۔ آج جب سوشل میڈیا کی چکاچوند میں صحافت کی روح دھندلا رہی ہے، ایسے میں خود احتسابی، سچائی اور ساکھ کی طرف واپسی ہی وہ راستہ ہے جو صحافت کو اس کا اصل وقار واپس دلا سکتا ہے۔

ٹائم لائن اردو ٹیم
ٹائم لائن اردو کے رپورٹرز، صحافی، اور مصنفین پر مشتمل ٹیم

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں